342

بظاہر بدترین دشمن مگر چینی اور اٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والے پانچ خاندان تفصیل طلحہ راجپوت کی اس رپوٹ میں

آٹا چینی بحران۔ کون کہاں کھڑا ہے کس نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ آئیے حقیقت معلوم کرتے ہیں۔

کل کی پبلک ہونے والی رپورٹ سے ایک بات تو کھل کر سامنے آئی اور مجھے امید ہے سب اس بات سے متفق ہوں گے کہ
” چینی گندم مافیا میں پچھلے 40 سال سے پاکستان کے پانچ بڑے خاندانوں کا غیر اعلانیہ گٹھ جوڑ ہے اگر چہ وہ بظاہر سیاسی مخالف بھی ہیں لیکن اندرون خانہ مال بنانے پر اور ایک دوسرے کے مالی مفادات کا خیال رکھنے پر یہ سارے متفق ہیں“.

اس مافیا میں زرداری خاندان، شریف خاندان، الھی خاندان، جہانگیر ترین اور خسرو بختیار خاندان۔
حکومت کسی کی بھی ہو یہ سب مالی فائدے کے لئے ہمیشہ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان سب نے افسران شاہی کا بھی ایک طبقہ وفاق ، اور صوبوں میں پال رکھا ہے جو ان کے لئے فائدے اور مال بنانے کے مواقع پیدا کرتا ہے اور یہ سب ان مواقع کو استعمال کرکے فائدہ اٹھاتے ہیں ان افسران کوحصہ دیتے ہیں اور ان کی نوکری اور تبادلے کا خاص خیال بھی رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ کو پڑھ کر بالکل یہی گٹھ جوڑ اسی طرح کا فارمولا استعمال کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

2014 میں چینی کا بحران پیدا ہوتا ہے۔ کیوں؟
کیونکہ چینی کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے اور اسے برآمد کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ شوگر مافیا کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا نقصان ہو رہا ہے ۔ جبکہ حقیقت میں گنا بھی کم قیمت میں یہ لوگ خریدتے رہے۔ اس مطالبے کو پورا کرنے کے لئے پنجاب حکومت کے کرپٹ اعلی چینی پر سبسڈی دے دیتا ہے۔ چینی کی برآمد شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اندرون ملک چینی کی قلت ہو جاتی ہے۔ یہاں پر شوگر مافیا کے پانچوں انگلیاں گھی میں دھنس جاتی ہے۔ سبسڈی کا فائدہ ، اندرون ملک قیمت بڑھنے کا فائدہ، یعنی بیرون میں اگر یہ 60 روپے کلو کا بیچتے ہیں تو 20 روپے حکومت سے بھی ملتے ہیں 80 ہو گئے۔ اس کے ساتھ اندرون ملک قیمت بھی بڑھ جاتی ہے جب قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ یعنی شوگر مافیا کو ڈبل فائدہ ۔ یہ سلسلہ 2014 سے شروع ہو کر 2019 تک چلتا رہا۔ ن لیگ کی حکومت میں ن لیگ کا بدترین دشمن جہانگیر ترین ٹوٹل 3 ارب کا فائدہ اٹھانے میں سے 2.5 ارب کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ جبکہ 0.5 ارب پی ٹی آئی کے دور میں۔ اس بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بدترین سیاسی دشمن بہترین مفاداتی دوست بن کر کیسے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔؟

اس دوران گندم میں بھی تقریبا یہی مافیا ملوث رہا۔ جس میں وہی افسران شاہی مواقع پیدا کرکے ان کو فائدہ دیتی ہے اس لئے تو خان صاحب کہتے ہیں کہ جب تک بیوروکریسی ٹھیک نہ ہو جائے ملک ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ خان صاحب اگر ایسا کوئی قدم اٹھاتا ہے تو عدالت میں بیٹھے اس مافیا سے جڑے جج اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ پنجاب میں 60 اعلی افسران کو کڈے لائن لگایا گیا تو عدالت نے اپنے انصاف کی چھتری پھیلا کر ان کو اپنے سائے میں پناہ دی۔
گندم بحران میں پنجاب ، سندھ اور کے پی کے کی بیوروکریسی کی نااہلی یا مفاد پرستوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کارفرماتھی انہیں مافیا نے وہی سے بھی فائدہ اٹھایا۔

باقی تو ہمیں معلوم ہے کہ چور ہیں اور سینہ تان کر چوری کرتے ہیں۔ جہانگیر ترین کو اس معاملے میں صفائی دینے کا سوچنا بھی نہیں چاہئے۔ ہم مان لیتے ہیں بیوروکریسی کی غلطی ہے۔ اگر ان کی غلطی ہے تو آپ 2014 سے اب تک خاموش کیوں تھے؟ آپ تو اس مافیا کے خلاف خان سے دوستی کر بیٹھے تھے پھر آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ آپ کھلم کھلا بول دیتے کہ ہم افسران شاہی کی غلطی کی وجہ سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اس لئے میں وہ نہیں لینا چاہتا میں واپس کرنا چاہتا ہوں لیکن آپ خاموشی سے کھاتے رہے حتی کہ خان کے دور حکومت میں بھی کھاتے رہے۔ آپ کو شرم آنی چاہئے۔ خسرو بختیار اور الھی خاندان تو کرپشن کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں وہ اتخادی ہیں لیکن پی ٹی آئی سے نہیں۔ہمارا گلہ ترین سے ہے۔

2018 میں موجودہ حکومت نے پہلی بار گنے کے کاشت کار کو پوری قیمت دلوائی یعنی 180 روپے فی من۔ اس سے پہلے اسی مافیا کے ہاتھوں گنے کا کاشتکار لوٹتا رہا۔

خان صاحب نے جب یہ انکوائری بٹھائی ہو گی تو اسے یہ اندازہ تھا کہ کیا ہو گا لیکن وہ اپنے اصول پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے اور یہی چیز اسے دنیا کا بہترین لیڈر بناتی ہے۔ خان نے ایک بار پھر واجد ضیاء کو یہ ذمہ داری سونپی۔ خوش نصیب ہیں وہ والدین جن کواللہ نے اس دور میں اتنا ایماندار اور نڈر بیٹا دیا ہے۔ اس نے نہایت ایمانداری اور مخنت سے رپورٹ بنائی۔ قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئی ۔ ڈرایا گیا لیکن اس نڈر انسان نے دھمکیاں دینے والوں کی ہر بات وزیراعظم کے گوش گزار کردی اور وہ اس کو حوصلہ دیتا ریا۔ یقینا وزیراعظم کو بھی سیاسی نتائج،حکومت گرانے کی دھمکیاں دی گئی ہوں گی لیکن ان کرپٹوں کو کیا معلوم کہ وہ کرسی کے لئے نہیں ان جیسے کرپٹوں کو سیدھا کرنے کے لئے آیا ہے۔

اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سب سے زیادہ مشکل میں وہ لفافی، پٹواری اور جماعتی ہیں جو پانامہ کیس میں واجد ضیاء پر تنقید کرتے تھے۔ مشکل یہ ہے کہ اب اگر وہ واجد ضیاء کی رپورٹ کو سچ مانیں تو پانامہ کی رپورٹ بھی سچ مانی جائے گی اور اگر نہ مانے تو تنقید نہیں کر سکتے۔ اس لئے کل سے مینڈک کی طرح منہ پھلا کر تنقید کے لئے جب بھی منہ کھولتے ہیں تو سامنے پانامہ کی رپورٹ آ جاتی ہے۔ اس لئے کل سے یہ سب لوگ” ہائیبرنیشن “ میں ہیں۔

خان صاحب نے کل اس رپورٹ پر کمیشن بنایا جو دو ہفتوں میں اس رپورٹ کی فرانزک آڈٹ کرے گا تاکہ کل کو حکومت ان کے خلاف کاروائی کرے تو یہ عدالتوں کی طرف بھاگ کر اپنے جج مافیا کے تعاون سے بچ نہ جائے۔

خان جیسے لیڈر ہی سیاست میں نئے راستے بناتے ہیں۔ کرونا جیسی وبا کے سامنے، اپنے سیاسی اتحادیوں اور اپنے پارٹی کے لوگوں کے خلاف، حکومت گرنے کے خدشے کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا دلیرانہ اقدام کیا گیا جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر خان کو واجد ضیاء جیسے چند اور آفیسر مل جائیں تو اس ملک کے ہر کرپٹ کا نام سب کے سامنے آئے گا اور سزا بھی ملے گی۔
ابھی اس مافیا کی جڑیں مضبوط ہیں۔ بیوروکریسی اور عدالتیں ان کی طاقت ہیں لیکن کب تک؟
خان جیسے شخص سے ان کا واسطہ نہیں پڑا تھا۔ کل کی رپورٹ تو ایک قطرہ ہے آگے اس مافیا کا برا حشر ہونے والا ہے انشاء اللہ۔

لیڈر قوم کا دھارا بدلتا ہے اور یہی خان کرنے والا ہے۔ روک سکو تو روک لو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں