183

سید مودودی رحمہ اللہ کی کتاب خلافت و ملوکیت سے ماخوذ: : : تحریر محمد اشفاق

سید مودودی رحمہ اللہ کی کتاب خلافت و ملوکیت سے ماخوذ:

:::خلافت نہ تو آمریت ہے اور نہ ہی جمہوریت :::

خلافت میں حاکمیتِ اعلیٰ صرف اور صرف اﷲ کی شریعت کو حاصل ہوتی ہے نہ کہ انسان کو۔لہٰذا خلافت میں خلیفہ اور امت دونوں اسلام کے احکامات کے پابند ہوتے ہیں،خلیفہ کو یہ اختیارحاصل نہیں ہو گاکہ وہ جوبھی قانون چاہے نافذکرے،بلکہ وہ قرآن و سنت کے قوانین کونافذ کرنے کاپابند ہوگا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان لوگوں کی شدید مذمت کی ہے جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکمرانی نہیں کرتے۔

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:( وََمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ َنْزَلَ اللّٰہُ فَُولٰئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ) ”اور جو شخص بھی اس کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکمرانی نہ کرے،تو ایسے لوگ ہی کافر ہیں”(المائدہ: 44)۔

اورفرمایا: ( وََمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ َنْزَلَ اللّٰہُ فَُولٰئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ) ”اور جو شخص بھی اس کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکمرانی نہ کرے،تو ایسے لوگ ہی ظالم ہیں” (المائدہ:45)۔

اور فرمایا:( وََمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ َنْزَلَ اللّٰہُ فَُولٰئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ) ”اور جو شخص بھی اس کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکمرانی نہ کرے،تو ایسے لوگ ہی فاسق ہیں” (المائدہ: 47)۔

جبکہ جمہوریت میں جائز و ناجائز کا حتمی فیصلہ خالقِ کائنات کی بجائے لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

آزادیوں(Freedoms) کے نام پرجمہوریت انسان کو شرعی قوانین کے تحت زندگی گزارنے کی پابندی سے آزاد کر دیتی ہے۔
اورعوام کے نمائندے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپنی مرضی سے قانون بناتے ہیں اور ان کی اکثریت کا فیصلہ مقدس ہوتا ہے خواہ یہ فیصلہ اسلامی احکامات کے منافی ہی ہو، لہٰذا جمہوریت کا دین کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے کسی بھی ایسے نظام کو تسلیم کرنا جائز نہیں جو جمہوری فلسفے پر استوار کیا گیا ہو۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

(اِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الِْاسْلَام)

”اللہ کے نزدیک طرزِ زندگی صرف اسلام ہی ہے”(اٰل عمرٰن: 19

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں