202

13رجب حضرت علی علیہ سلام کا یوم ولادت ہے رپوٹ لبنی سیال

امام مبین

تحریر: آصف ممتاز ملک ایڈووکیٹ.

13رجب حضرت علی علیہ سلام کا یوم
ولادت ہے. حضرت علی کی ولادت با سعادت خانہ خدا یعنی خانہ کعبہ میں ہوئی پیدائش کے بعد جب بہت دیر تک حضرت علی نے آنکھیں نہ کھولیں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلایا گیا جیسے ہی آپؐ نے حضرت علی کو گود میں لیا تو حضرت علی نے فورا ہی اپنی بند آنکھیں کھول دیں اور یوں اس دنیاں میں سب سے پہلا دیدار باعث وجہہ تخلیق کائنات رحمت دو عالم حضرت محمد مصطفی کی طاہر و مطاہر ہستی کا کیا.اسکے بعد بچپن سے لیکر جوانی تک حضرت علی کی تربیت و نگہداشت رسول اکرم نے براہ راست خود کی اور قدم قدم پر علی کی رہنمائ کائنات کی افضل ترین ہستی اور خاتم الانبیاء نے کی.لہزا بلا مبالغہ اصحاب رسول کی مقدس ترین جماعت میں یہ شرف صرف اور صرف حضرت علی کے حصہ میں ہی آیا کہ معیت رسول اور تربیت رسول سے براہ راست مستفید ہوئےجو کہ یقینا قدرت خدا وندی کا الہی انتظام تھا جو ہرگز ہرگز بے مقصد نہ تھا.جب پیغمبر اکرم نے اسلام کی پہلی دعوت ‘دعوت ذوالعشیرہ’ دی تو حضرت علی آپؐ کے ساتھ تھے اور اس اسلام کی سب سے پہلی دعوت کے لئے نبیؐ کے ساتھ مل کر مہمانوں کی دعوت و طعام کا بندوبست کیا. جب تمام لوگ جمع ہو گئے تو ہادئ برحق نے دین کی دعوت پیش کی اور فرمایا جو کوئ میری اس دعوت کو قبول کرے گا اور اس کام میں میری مدد کرے گا ‘وہ میرا وصی’ , ‘میرا وزیر’ اور ‘میرا جانشین ہو گا’. تو سب سے پہلے حضرت علی نے اس پر لبیک کہااور اس پہلی دعوت میں سوائے علی کے اور کسی نے بھی لبیک نہ کہا اور یوں رسول اکرم کا وصی, وزیر اور جانشین ہونے کا اعزاز پایا. حضرت علی علیہ سلام علم و حکمت, شجاعت و بہادری اور زہد و تقوی میں اپنی مثال آپ ہیں. آپ کی بے مثال بہادری کی وجہ سے رسول کریمؐ نے آپ کو ‘اسد اللہ’ یعنی اللہ کے شیر کا خطاب دیا.جنگ بدر جو کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان پہلی جنگ تھی اور اس لحاظ سے بہت اہم تھی کہ مسلمانوں کی قلیل سی جماعت کی بقا و فنا کاسوال تھا کفار کے ایک ہزار کے لشکر کے مقابلے میں صرف 313 اصحاب رسول بغیر کسی حربی سامان کے تھے اور دنیاوی نقطہ نگاہ سے اس جنگ کو جیتنا ناممکن تھا لیکن اس جنگ میں مسلمانوں نے 70 کفار کو قتل کیا جن میں سے 36 مولا علی شیر خدا نے قتل کیئے اور در اصل کفار کے بڑے بڑے بہادر جن پر کہ کفار کو بہت ناز تھا مولا علی نے واصل جہنم کر دیئے جس سے کفار کے اوسان خطا ہو گئے اور عددی برتری کے باوجود کفار کی جنگ کرنے کی صلاحیت ختم ہو کر رہ گئی اور مسلمانوں کو کفر اور اسلام کی اس پہلی جنگ میں شاندار فتح نصیب ہوئ.جنگ خندق میں امر ابن عبدود جو کہ بہت بہادر جنگجو تھا خندق کو پار کر کے مسلمانوں کے لشکر کے سامنے آگیا اور اس نے رسول اکرمؐ کو براہ راست لڑنے کیلئے کہا جس پر آپؐ نے اصحاب کی جانب دیکھا توصرف علی آگے بڑھے اور اس گستاخ رسولؐ کو فی النار کردیا جس پر رسول اکرمؐ نے مولا علی کی شان میں کیا کمال حدیٹ بیان فرمائی آپؐ نے فرمایا “ضربت علی من یوم الخندق افضل من عبادةالثقلین” ‘یوم خندق میں علی کی ضرب تمام جہانوں کی عبادت سے افضل ہے’ جب علی امر کے مقابلے کے لئے جا رہے تھے تو آپؐ نے فرمایا دیکھو کفر کے مقابلے پہ ‘کل ایمان’ جا رہا ہے یعنی علی کی ذات کو تمام کا تمام ایمان قرار دیا. خیبر یہودیوں کا علاقہ تھا اور مدینہ سے کچھ فاصلے پر تھا یہ مسلمانوں کے کافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے اور ان پر حملے کیا کرتے تھے جس پر آپؐ نے اصحاب کرام کا لشکر تیار کیا اور خیبر کو فتح کرنے کا قصد کیا کچھ صحابہ نے خواہش کا اظہار کیا کہ ہر معرکہ ہی علی کے نام لکھا جاتا ہم بھی بہت بہادر ہیں سو ہمیں بھی موقع دیا جائے رسول رحمت نے اس درخواست کو قبول فرمایا اور مولا علی کو مدینہ میں ہی چھوڑ دیا ساتھ میں 40 دن میں خیبر کا قلعہ فتح کرنے کی تاکید فرمائی بہت سے جید صحابہ کرام کو علم دیا گیا لیکن ‘مرحب’ کی ہیبت اور دہشت کے باعث کامیابی حاصل نہ ہو سکی حتی کہ 39 واں دن آن پہنچا سو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا” کل میں علم ایک ایسے شخص کو دوں گا جو مرد ہو گا, کرار ہوگا(جم کر لڑنے والا) غیر فرار ہو گا(یعنی بھاگنے والا نہ ہو گا).وہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسولؐ بھی اس سے محبت کرتے ہیں”. اس خطبہ کو سننے کے بعد ہر صحابی کی خواہش تھی کہ علم اسکو ملے لیکن اگلے دن رسول اکرمؐ نے فرمایا ‘این علی’ علی کہاں ہیں اور علی کی آواز آئی لبیک یا رسول اللہ جس کے بعد مولا علی کو علم دست رسول نے عنایت کیا اور اللہ کے اس شیر نے خیبر کے اس قلعے کو آن واحد میں فتح کر لیا.

کبھی تنہائی کوہ دمن عشق
کبھی سوز و سرور انجمن عشق
کبھی سرمائہ محراب و ممبر
کبھی مولا علی خیبر شکن عشق
(اقبال)
. جب رسول پاک نے مدینہ میں انصار مدینہ اور محاجرین مکہ میں مواخات کرائ اور ایک دوسرے کا بھائ بنایا تو علی آخر میں تنہا رہ گئے توعلی نے رسول پاک سے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے سب کو کسی نہ کسی کا بھائ بنایا لیکن مجھے کسی کا بھائ نہیں بنایا تو آپؐ نے اپنا دست مبارک حضرت علی کے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا “اے علی تم دنیا میں بھی میرے بھائ ہو اور آخرت میں بھی میرے بھائ ہو”. دختر رسول شہزادئ کائنات حضرت فاطمةالزہرا کے عقد کا مرحلہ آیا تو باوجود اسکے کہ سارا مدینہ اور اصحاب کرام آپ سے عقد کے خواہش مند تھے رسول اکرمؐ نے بحکم خدا سیدةالنساء العالمین کا عقد مولا علی شیر خدا سے کیا اور فرمایا ” اگر علی نہ ہوتے تو فاطمہ کا کفو روئے کائنات میں کوئی نہ تھا”.علی جس گھر کے سربراہ ہیں اس گھر میں علی کی زوجہ سیدة النساء العالمین. علی کے فرزند حسن و حسین جنت کے سردار تو لازمی امر ہے کہ علی کا Status ان سے بھی بالاتر ہو لہزا رسول پاک نے فرمایا ‘ یا علی انت قسیم النار والجنہ’ اے علی آپ جنت و جہنم کے تقسیم کرنے والے ہیں. ‘حب علی رحمت اللہ و بغض علی لعنت اللہ’ علی کی محبت اللہ کی رحمت ہے اور علی سے بغض اللہ کی لعنت ہے. ‘ الحق مع علی و علی مع الحق’ حق علی کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ ہے.’ القرآن مع علی و علی مع القرآن’ قرآن علی کے ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ ہے. مزید فرمایا ‘اے علی تم سے مومن کے سوا کوئی محبت نہیں کرے گا اور سوائے منافق کے کوئی بغض نہیں رکھے گا. ایک دفعہ اصحاب رسولؐ نے عرض کیا یا رسول اللہ آج کل ہر شخص نے داڑھی رکھی ہے اور بظاہر بہت دیندار ہے تو ہم مومن اور منافق میں پہچان کیسے کریں تو آپؐ نے فرمایا ‘تم مومن اور منافق کی پہچان زکر علی سے کیا کرو جس کا چہرہ علی کا ذکر سن کر خوشی سے کھل جائے تو جان لو کہ وہ مومن ہے اور جس کا چہرہ علی کا ذکر سن کر مرجھا جائے تو سمجھ لو کہ وہ منافق ہے’. مزید فرمایا جس نے علی سے جنگ کی اس نے مجھ سے جنگ کی اور جس نے مجھ سے جنگ کی اس نے خدا سے جنگ کی’. مولا علی ایک ایسی عظیم ہستی ہیں کہ جو بہادر و شجاع ہونے کے ساتھ ساتھ علم و حکمت سے بھی مالا مال ہیں اور آپ کی نسبت رسول اکرمؐ نے فرمایا ‘ انا مدینةالعلم و علی بابھا’ میں علم کا شہر ہوں اور علی اسکا دروازہ ہیں. جب مولا علی کے خطبات اور آپ کے اقوال پڑھتے ہیں تو انسانی عقل پر سوچ و فکر کے وہ ابواب کھلتے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے. آج کے اس میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں ہمیں عقل و خرد کی جو گفتگو اور جو کلام حضرت علی سے منسوب نظر آتا ہے اور کسی سے نظر نہیں آتا. ایک شخص آپ کے پاس اپنی ایک الجھن لے کر آیا اور سوال کیا’ انسان کتنا با اختیار ہے اور کتنا مجبور ہے’ تو حضرت علی نے فرمایا اپنی ایک ٹانگ اوپر اٹھائو اس شخص نے اپنی ایک ٹانگ اوپر اٹھائی پھر حضرت علی نے فرمایا اب اپنی دوسری ٹانگ بھی اوپر اٹھائو تو وہ شخص بولا یا مولا یہ تو میں نہیں کر سکتا تو آپ نے فرمایا بس انسان اتنا ہی با اختیار اور اتنا ہی مجبور ہے. جب آپ سے سوال کیا گیا کہ دوست اور دشمن میں تمیز کیسے ہو تو آپ نے فرمایا ‘ تمھارے تین دوست اور تین دشمن ہیں دوست: تمھارا دوست, تمھارے دوست کا دوست اور تمھارے دشمن کا دشمن پھر فرمایا تمھارے تین دشمن ہیں تمھار دشمن, تمھارے دوست کا دشمن اور تمھارے دشمن کا دوست. حضرت علی وہ صاحب علم شخصیت ہیں کہ بعد رسول خلفائے راشدین اور اصحاب رسول آپ سے مشورہ لیتے تھے اور آپ کی رائے کو بہت اہمیت دیتے تھے.ایک دفعہ حضرت عمر جبکہ وہ خلیفئہ وقت تھے کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے ایک ایسا سوال کر دیا کہ جس کا جواب دینا انتہائ مشکل ہو گیا حضرت عمر نے 3 یوم کی مہلت لی اور جب بڑے بڑے علماء اور شیوخ لاجواب ہو گئے اور کسی سے جواب نہ بن پڑا تو حضرت عمر نے حضرت علی کو طلب کیا اور اپنی الجھن سے آگاہ کیا سوال یہ تھا کہ یہودی نے حضرت عمر سے پوچھا ‘ تم مسلمان کہتے ہو قرآن میں لکھا ہے اللہ ہر شے پر قادر ہے اور وہ جو بھی خلق کرنا چاہے کر سکتا ہے تو یہ بتائو کیا تمھارا خدا اپنے جیسا کوئ اور خدا بھی خلق کر سکتا ہے’. جب حضرت علی نے سوال سنا تو آپ مسکرائے اور فرمایا میرا خدا ایک نہیں بلکہ کروڑوں خدا خلق کر سکتا ہے لیکن فرق یہ ہو گا کہ جو خلق ہوں گے وہ مخلوق ہوں گے اور میرا خدا پھر بھی خالق ہی رہے گا جب حضرت عمر نے یہ جواب سنا تو عش عش کر اٹھے اور کہا ‘ لولیک علی فہلک عمر’ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا’. جب حضرت ابوبکر نے منصب خلافت سنبھالا تو اس وقت ابوسفیان جو کہ مسلمان ہونے سے پہلے حضور اکرم کے خلاف کفار کی قیادت کیا کرتا تھا اور ہندہ کا شوہر معاویہ کا باپ اور یزید کا دادا تھا اسوقت مدینہ میں موجود نہ تھا جب مدینہ میں واپس آیا تو حضرت علی کے پاس آیا اور کہا کہ آپ سے بہت چالاکی سے خلافت ہتھیا لی گئی ہے اور خدا کی قسم اب بنو ہاشم کو کبھی بھی خلافت نہ مل سکے گی آپ کا حق دبا لیا گیا ہے آپ میرے ساتھ آئیں میں مدینے کی گلیوں کو سواروں اور پیادوں سے بھر دوں گا. جب حضرت علی نے ابو سفیان کی یہ بات سنی تو آپ نے اس کے جواب میں بس ایک ہی جملہ بیان فرمایا آپ نے فرمایا ‘ ابو سفیان تو اسلام کا خیر خواہ کب سے ہو گیا’. جب حضرت ابوبکر کو اس بات کا پتہ چلا تو بہت خوش ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہا ‘ اے لوگو میں تم لوگوں کا بہترین فرد نہیں ہوں کیونکہ تم میں علی موجود ہیں’. مولا علی عبادات میں اس حد تک محتاط تھے کہ عبادات میں کسی بھی قسم کا تساہل برداشت نہیں کرتے تھے جب آپ کی خلافت کو معاویہ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور آپ سے باقاعدہ جنگ شروع کر دی جو جنگ صفین کہلاتی ہے تو ایک موقع پر لڑائی کے دوران نماز کا وقت آگیا آپ نے جنگ روک کر نماز ادا کرنے کا حکم دیاآپ کے سپہ سالار مالک اشتر نے کہاکہ کچھ ہی دیر میں فتح ہونے والی ہے سو نماز کچھ دیر بعد ادا کر لیں گے تو حضرت علی علیہ سلام نے کیا خوبصورت جواب دیا ‘ اس نماز کی خاطر ہی تو میں جنگ کر رہا ہوں’. جب سورہ یسن کی یہ آیت نازل ہوئی ‘کل شئ احصینہ فی امام المبین’ ہر چیز کو ایک امام مبین میں جمع کر دیا ہے. تو اصحاب رسول نے رسول اللہ سے سوال کیا ‘امام مبین سے مراد توریت ہے , ضبور ہے یا قرآن ہے تو رسول پاک نے فرمایا یہاں امام مبین سے مراد وہ شخص ہے جو میری جوتیاں گانٹھ رہا ہے اور دیکھا تو مولائے کائنات اپنے آقا و مولا رسول ہر دو عالم کی جوتیاں گانٹھ رہے تھے. ایک دفعہ حضرت علی حضرت سلمان فارسی کے ساتھ کہیں سے گزرے تو وہاں بے شمار چونٹیاں دیکھیں تو سلمان فارسی نے کہا پاک ہے وہ رب جو ان چونٹیوں کی تعداد جانتا ہے تو حضرت علی نے فرمایا سلمان یوں نہ کہو بلکہ یوں کہو پاک ہے وہ رب جس نے انھیں خلق کیا ورنہ ان کی تعداد تو کیا ان میں کتنے نر اور کتنے مادہ ہیں میں یہ بھی جانتا ہوں کیا تم نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی ‘کل شئ احصینہ فی اماالمبین’ اس آیت میں جو امام مبین ہے وہ میں ہوں. اللہ سے دعا ہے وہ ہمیں حب علی یعنی اپنی رحمت عطا فرمائے اور بغض علی یعنی اپنی لعنت سے دور رکھے. آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں