302

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد النور اور مسجد لنووڈ میں فائرنگ کے نتیجے میں 30 سے زائد نمازی شہید ہوگئے اور 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے :رپوٹ میڈم شازیہ ایڈوکیٹ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد النور اور مسجد لنووڈ میں فائرنگ کے نتیجے میں 30 سے زائد نمازی شہید ہوگئے اور 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے جس کے بعد ملک کی تمام مساجد بھی بند کردی گئیں اور مسلمانوں کو نماز جمعہ پڑھنے کے لیے مساجد میں آنے سے روکدیا گیا۔

نمازیوں کے قتل عام کرنے والا قاتل کی شناخت برنٹن ٹرنٹ کے نام سے ہوئی۔ اس نے قتل عام کی دلخراش واردت پندرہ منٹ تک فیس بک پر نشر کی۔

عینی شاہدین نے واقعہ کی کوریج کرنے والے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ’’حملہ آور نے فوجی وردی سے ملتا جلتا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں خودکار بندوق تھی جس سے وہ مسجد النور میں اندھا دھند نمازیوں پر فائرنگ کرتا رہا۔

اب ایک سادہ سا سوال
مسلمانوں کی عبادت گاہ میں گھس کر مسلمانوں کو شہید کرنے پر کیا اس شخص کی قوم کو دہشت گرد قرار دیا جائے گا
کیا اب ایسے دہشت گردوں کو پالنے پر نیوزی لینڈ کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے پہ بحث ہو گی۔

کیا وجہ ہے کہ مسلمان پہ ہوا ظلم نظر نہیں آتا؟
دنیا میں سب سے زیادہ ظلم کا شکار مسلمان ہیں لیکن ہمیں پہ ہی دہشتگردی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے
جبکہ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث افراد کو سائیکی یا مینٹل ڈس ارڈر قرار دیکر صاف بچا لیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں