278

عیسائ خواتین کا لباس ایک زمانے تک عجیب و غریب نہیں ہوا کرتا تھا- عیسائ مرد و خواتین شادی کے بندھن میں باندھے جاتے- رپوٹ ڈاکٹر شازیہ ایڈوکیٹ

عیسائ خواتین کا لباس ایک زمانے تک عجیب و غریب نہیں ہوا کرتا تھا- عیسائ مرد و خواتین شادی کے بندھن میں باندھے جاتے- خاندان وجود میں آتا اور نئ نسلیں مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے بھی قانونی ہوا کرتی تھیں-
پھر سرمایہ داری کو عروج حاصل ہوا- عورت کو اشتہار اور کھلونا بنا کر رکھ دیا گیا- حقوق اور آذادی کے نام پر اس کا بدترین استحصال کیا گیا-
آج مغرب میں خاندان کا قیمتی ترین ادارہ اپنی وقعت کھورہا ہے- اچھی خاصی تعداد میں نوجوان جوڑے شادی کے بغیر ساتھ رہتے ہیں اور غیر فطری جنسی تعلقات کو قانونی و آئینی تحفظ دیا جارہا ہے-
جس نظام نے عیسائیوں کے یہاں خاندان کے ادارے کو پرکشش اور پر فریب نعروں کے ذریعہ تباہ و برباد کردیا وہی اب ہم پر حملہ آور ہے-
چند درجن عورتوں کے اخلاق باختہ سلوگنز کو کم اہم نہ سمجھیں- یہ چند لوگوں کا عام سا احتجاج نہیں ہے ” خاندان” کے ادارے پر ویسا ہی حملہ ہے جیسا کہ مغرب میں ہوچکا ہے-
مجھے اور آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ سرمایہ داری نظام کے اس خوفناک حملے کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟ جذباتی رد عمل کے ذریعہ یا بہت سوچ سمجھ کر بنائے گئے مربوط اور منظم لائحہ عمل کے ذریعہ ۔۔۔
یاد رکھئے!
بقول اقبال عمل سے زندگی بنتی ہے ۔۔۔
رد عمل کی زندگی اور اثر دونوں محدود ۔۔۔
ڈاکٹر فیاض عالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں