219

ٹیکسلا سرکل میں تعینات سابق ڈی ایس پی اپنے اے ایس آئی ریڈر کے ذریعے ماہانہ 6 لاکھ روپے منشیات فروش سے بطور رشوت لیتا رہا رپوٹ زاھد قیوم

ٹیکسلا سرکل میں تعینات سابق ڈی ایس پی اپنے اے ایس آئی ریڈر کے ذریعے ماہانہ 6 لاکھ روپے منشیات فروش سے بطور رشوت لیتا رہا ایس ایچ او افسران کی انکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے جعلی بارود سے بھری گاڑیاں پکڑ کر بے وقوف بناتا رہامنشیات فروش کے مطابق سرکل ڈی ایس پی پشاور میں نجی ہوٹل میں رنگین دعوتوں سے بھی فیض یاب ہوتا تھا ملزم کے مطابق جو اہلکار انکے منشیات فروش اور خریداری کرنے والے افراد کو تنگ کرتے تھے انکی ڈی ایس پی آفس میں تزلیل کروا کر انہیں تبدیل کروا دیا جاتا تھا ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ بعض اوقات تھانہ ٹیکسلا میں تعینات ایس ایچ او دیگر منشیات فروشوں سے پکڑی گئی منشیات ہمیں بیچ دیتا تھا اور اسکا معاوضہ وصول کرتا تھا ملزم کے مطابق سرکل کی جب کوئی شکایت پولیس کے سنئیر حکام تک پہنچتی تو ایس ایچ او ٹیکسلا جعلی بارود سے بھری گاڑی پکڑنے کا ڈرامہ رچا کر افسران کے سامنے اپنا اور ڈی ایس پی کے کاغزات درست کروا دیتا ملزم نے انکشاف کیا کہ سابق ڈی ایس پی کو اس وقت کے اپوزیشن لیڈر کی بھر پور حمایت حاصل تھی سابق ڈی ایس پی کے کالے کرتوت ایس ایچ او کی ڈرامے بازی اڈیالہ جیل میں قید ملزم کی زبانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں