289

محتاط اندازے کے مطابق تیرہ لاکھ سے زائد مجمع نے حاجی عبدالوھاب صاحب کے جنازےمیں شرکت کی۔رپوٹ ایڈوکیٹ ارسلان سدھو

محتاط اَندازے کے مطابق تیرہ لاکھ سے زائد مجمع نے حاجی عبدالوہاب صاحب کے جنازے میں شرکت کی۔اِنسانوں کا اِتنا بڑا سمندر اِس سے پہلے کسی جنازہ میں دیکھنے کو نہ ملا۔ ایک اِجتماع پر جتنے اَفراد جمع ہوتے ہیں‘ حالانکہ اِجتماع کی تیاری دو ماہ پہلے سے ہونا شروع ہوتی ہے، جنازے میں اُس سے زیادہ کا مجمع تھا۔ جبکہ جنازے کی اِطلاع تو صرف چند گھنٹے پہلے ہی دی گئی۔ حالانکہ دور والے (مثلاً کراچی والے، اور ایسے ہی کوئٹہ، گلگت وغیرہ والے حضرات گھر سے نکلے ہی نہیں‘ کہ وقت بہت مختصر تھا) مگر پھر بھی ایک اِجتماع کے مجمع سے بڑا مجمع تھا‘ جو جنازے میں شریک ہوا۔
اور تین چار لاکھ سے زائد وہ اَفراد تھے‘ جو سُندر، مانگا منڈی اور قُرب و جوار میں ٹریفک کی بلاکیج میں ایسے پھنسے کہ جنازہ ہوجانے کے بعد بھی کئی گھنٹے تک پھنسے رہے۔ پانچ لاکھ کا مجمع ایسا تھا‘ جو روڈ پر تھا‘ مگر پہنچ نہیں سکا۔ اگر وقت ہوتا، اور وہ بھی پہنچ جاتے‘ تو جنازہ میں شریک ہونے والے اَفراد کی تعداد بیس لاکھ سے کسی صورت کم نہ ہوتی۔
پاکستان میں جس کے نام پر ایک مرلہ زمین نہ تھی، اور جس کا ذاتی ایک کمرہ تک نہ تھا۔ وقف کے کمرے میں زِندگی گزارنے والا لوگوں کے دِلوں میں ایسا دھڑکتا تھا کہ آج وہ حیران کن منظر سُندر، مانگا منڈی اور قُرب و جِوار میں کھلی آنکھوں سے خود دیکھا کہ لوگ بلاکیج میں پھنسنے کے بعد کروڑوں روپے کی بڑی بڑی گاڑیوں کو روڈ پر چھوڑ کر پیدل پنڈال کی طرف بھاگ رہے تھے کہ بھاڑ میں جائے گاڑی۔ کسی طرح جنازہ مل جائے۔
یہ دِیوانگی اُس فقیر کےلئے تھی‘ جس نے وِراثت کے نام پر ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں چھوڑی!
’’پاکستان کا سب سے بڑا فقیر‘‘ پاکستانی عوام کی سب سے زیادہ محبت اور عقیدت لے کر یہ اِعلان کرگیا کہ لوگوں کے دِلوں میں دھڑکنے کےلئے بڑی بڑی گاڑیاں، بڑے بڑے بنگلے، سیاسی شعبدہ بازیاں قطعاً ضروری نہیں۔ آج سے تقریباً چالیس سال پہلے ملتان کی اَبدالی مسجد سے سائیکل کے کیریئر پر بیٹھ کر میلسی اور وہاڑی تک گشت کرنے والا، اور کمرہ نہ ہونے کی بناء پر رائیونڈ کے کسی زمیندار کے ٹیوب ویل کی کچی کوٹھڑی میں اپنا بکسہ رکھ کر قُرب و جوار کے لوگوں کو دعوت و تبلیغ کی محنت کی طرف بلانے کی اِبتداء کرنے والا، اور اُس کچی کوٹھڑی سے شروع کی گئی تبلیغی محنت کے ثمرات کے طور پر رائیونڈ مرکز کو دُنیا بھر کے عالمی مرکز کا رُوپ دینے والا یہ بندہ آج پاکستان کے سب سے بڑے جنازے والا بن گیا۔
اللہ تعالیٰ یہ عزت اور یہ مرتبے کسی کسی کو ہی عطا فرماتا ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں