162

صحت کے 10 راہنما اصول!! تحریر حاجی خرم نواز مہروی

آپ ورزش کا معمول بنالیں۔ سرعام بھی ورزش کرنے میں کوئی شرم، کوئی عار، کوئی حجاب ہر گز محسوس نہ کریں۔ 24 گھنٹوں میں ایک آدھ گھنٹہ جسمانی ورزش کے لیے لازمی مختص کریں۔ دوڑ لگائیں، کھیل کھیلیں، تیراکی کریں، تیز قدموں چلیں، یوگا وغیرہ کریں، بلکہ آج کل تو ورزش کی مشینیں آچکی ہیں۔ کوئی ایک مشین خرید کر کمرے میں رکھ لیں۔ بیڈ روم میں بھی ورزش کریں، کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی ہلکی پھلکی ایکسرسائز کریں۔ صحت مند اور لمبی زندگی کے درج ذیل 10 راہنما اصولوں کو پلے باندھ لیجیے۔ پہلا اصول ہے آلودگی سے محفوظ رہیں۔ دوسرا اصول ہے: ”اسلامی احکامات پر عمل کریں۔“ تیسرا اصول ہے: ”ازدواجی تعلقات بہتر بنائیں۔“ چوتھا اصول ہے: ”تمباکو نوشی نہ کریں۔“ پانچواں اصول ہے: ”حرکت کرتے رہیں۔“ چھٹا اصول ہے: ”خوش و خرم رہیں۔“ ساتواں اصول ہے: ”ذہنی تناﺅ اور دباﺅ کو کم کریں۔“ آٹھواں اصول ہے: ”غذائی عادات کو بہتر سے بہتر کریں۔“ نواں اصول ہے: ”مثبت انداز فکر اپنائیں۔“ دسواں اصول ہے: ”نشہ آور اشیاءسے پرہیز کریں۔ وہاں دیکھ لی جائے۔ اگر آپ نے ان اصولوں پر عمل کرلیا تو آپ ہر اعتبار سے صحت مند، مضبوط اور قوی ہوجائیں گے اور حدیث شریف میں آتا ہے: ”قوی مسلمان کمزور مسلمان سے ہر لحاظ سے بہتر ہے۔“
صحت مند اور قوی انسان خدمتِ خلق اور خدمتِ دین کا کام زیادہ اور بہتر انداز میں کرسکتا ہے، بلکہ کمزور تو پھر کمزور ہی ہوتا ہے نا بھائی! اور توانائی حاصل کرنے کا ایک اعلیٰ اور بہترین طریقہ ورزش بھی ہے۔ میرا خود ذاتی تجربہ ہے۔ جس دن ورزش کرتا ہوں تو چوبیس گھنٹے اپنے آپ کو توانا، مضبوط اور صحت مند محسوس کرتا ہوں۔ اس دن دوسرے دنوں کی بنسبت کام بھی زیادہ اور بہتر ہوپاتا ہے، جبکہ جس دن ورزش کا ناغہ ہوجائے اس دن سستی، کاہلی اور کمزوری میں ہی گزر جاتا ہے۔ اچھا اور معیاری کام بھی نہیں ہوپاتا ہے۔ تمام بڑے، اہم، کامیاب اور وژنری لوگوں کی سات بڑی عادتوں میں سے ایک قدرے مشترک عادت ورزش کرنا بھی ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو ان کی آٹوگرافی اور بائی آٹو گرافی کا مطالعہ کرلیں۔ سب معلوم ہوجائے گا۔
حاصل یہ ہے کہ اگر آپ ورزش کرنا چاہیں تو طریقے ہزار ہیں اور اگر نہ کرنا چاہیں کوئی مائی کا لال آپ کو مجبور نہیں کرسکتا ہے، کیونکہ نہ کرنے کے بہانے دو ہزار ہیں۔ بیمار سے بیمار افراد بھی ورزشوں کے ذریعے صحت مند ہورہے ہیں اور صحت مند لوگ بھی ورزش نہ کرکے بیمار ہورہے ہیں، کمزور ہورہے ہیں، مختلف بیماریوں میں گِھر رہے ہیں۔ آپ خود سوچیں ذرا جب آپ جسمانی اور دماغی اعتبار سے صحت مند نہیں ہیں تو پھر کس طرح اور کیسے اپنے کاموں، منصوبوں اور وژنوں کو پائے تکمیل تک پہنچاسکتے ہیں…. !!!
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں