83

سپیشل انٹرویو! حصہ دوئم میاں غفار احمد ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں گروپ ملتان!ترتیب و اہتمام ون مین میڈیا درکھانہ

سپیشل انٹرویو! حصہ دوئم
میاں غفار احمد
ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں گروپ ملتان!
سوال:
میاں صاحب اپنی زندگی کا اہم یادگار واقعہ؟
جواب:
خبریں گروپ اور مجھے اللہ نے انعام دیا کہ ہم نے یوسف کذاب گستاخ رسول کو عدالتی کاروائی کے ذریعے جہنم واصل کروایا اس کیس کی پیروی کا اعزاز مجھے اور خبریں گروپ کو ملا جو میرے لیے اعزاز ہے
سوال:
آپ نے ہمیشہ علاقائی صحافیوں کے لیے بڑے اقدامات کیے ہر فورم پر صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی آپ صحافی کاز کے لیے لڑے موجودہ دور اور گذشتہ دور میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں ؟
جواب:
میڈیا ستر سال تک اس ملک پر چھایا رہا میڈیا سیاہ و سفید کا مالک رہا ملک کے بڑے بڑے فیصلے صحافی کے لکھے گئے حروف پر کیے گئے اتنے بہترین حالات کے باوجود میڈیا بدقسمتی سے خود کو مستحکم نہیں کر سکا ریاست کا چوتھا ستون میڈیا ستر سال تک چھائے رہنے کے باوجود میڈیا مالکان کی پالیسیوں کی وجہ سے چاروں شانے چت ہو چکا میڈیا مالکان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ ہر حکومت پر دباؤ ڈال کر سرکاری اشتہار لے لیے جائیں میڈیا مالکان نے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جائیدادیں کاروبار بنائے ادارے نہیں بنائے صحافت کو مضبوط نہیں کیا یہ بھی صحافتی پستی کی وجہ ہے
سوال:
آپ نے پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں صحافتی خدمات سر انجام دیں سب سے یادگار وقت کس ادارے کے ساتھ گزرا؟
جواب:
کھل کر انصاف اور جرات کے ساتھ لکھنے کا موقع صرف اور صرف روزنامہ خبریں نے دیا لیکن سہولیات اور مراعات دنیا ٹی وی چینل کی طرف سے زیادہ دی گئیں آزادی اظہار رائے خبریں گروپ نے دیا
سوال:
کیا آپ سمجھتے ہیں دور حاضر میں صحافی برادری مظلوم اور لاوارث ہے؟
جواب:
یہی آپ کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ صحافی مظلوم ہیں خدا گواہ ہے کہ صحافی سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہر شہر کے صحافیوں کو آپ دیکھ لیں آپس میں اتنا بغض عناد کینہ حسد ہے کہ صحافی کسی کافر غیر مسلم سے تو اتحاد کر لیں گے لیکن اپنی برادری کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے صحافیوں کے گروپوں نے ایک دوسرے پر ایف آئی آر درج کروائیں افسران کے سامنے ایک دوسرے کی شکایتوں کے انبار لگائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچیں
نیچے دیکھانے کی کوشش کی نتیجہ یہ نکلا کہ سبھی بے عزت ہوئے اپنا وقار کھو بیٹھے
سوال:
اہل صحافت اور صحافت کی کونسی خرابیوں پر دل کڑھتا ہے کونسی خرابیاں ہیں جن کی اصلاح اشد ضروری ہے
جواب:
عوام کو انصاف دلوانے کے دعوے دار پریس کلبز برائی کے اڈے بن چکے پریس کلبوں سے اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم کے فون کیے گئے بھتے کی ریکوری کے لیے پریس کلب کے فون نمبرز استعمال ہوئے
پریس کلبوں میں جوا کھیلا گیا جب سارے شہر میں فحش فلمیں بند تھیں پریس کلبز میں فحاشی کا اس قدر ارتکاب ہوتا تھا کہ فحش فلمیں پریس کلبز میں دیکھی جاتی تھیں ایک شہر کے سات محلے نہیں لیکن درجن پریس کلب بن چکے
صحافت کا کیا معیار باقی رہ گیا ان حالات اور عادات کے باوجود کسی شریف النفس طبع انسان سے امید رکھی جا سکتی ہے وہ صحافیوں کی عزت کرے پانچوں انگلیاں برابر بھی نہیں بہت سے با کردار لوگ بھی اس شعبہ میں موجود ہیں جن کا کردار مثالی ہے انہیں دنیا عزت بھی دیتی ہے ان کا احترام بھی ہوتا ہے
سوال:
صحافیوں کی تعداد چونکہ ہزاروں میں ہے لیکن اتحاد نہیں کیا مستقبل میں اتحاد کی کوئی صورت نظر آتی ہے اس شعبہ میں بہتری کی امید نظر آتی ہے کیا کہیں گے ؟
جواب:
صحافت کا داخلی دروازہ ہے خارجی راستہ کوئی نہیں صحافی بن سکتا ہے لیکن صحافت چھوڑی نہیں جا سکتی صحافت میں ہم نے ہر قسم کی خبریں لگانی ہوتی ہیں جس سے ہم اپنے کئی ظاہری و باطنی دشمن تیار کر لیتے ہیں جن کا مقابلہ صرف اسی شعبے میں رہتے ہوئے ہی کیا جا سکتا ہے میرے سامنے سینکڑوں ایسی مثالیں ہیں کہ صحافیوں نے صحافت چھوڑی پھر انہیں بہت سے مصائب اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا لوگ کبھی معاف نہیں کرتے اللہ معاف کر دیتا ہے منفی سوچ والے لوگ انتقامی کاروائیوں سے باز نہیں آتے
سوال:
صحافیوں کے اتحاد کی کوئی صورت مسقبل میں آپ کی جہاں دیدہ نظر دیکھتی ہے؟
جواب:
شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک قول یاد ہے کہ ایک کمبل میں دس درویش سو سکتے ہیں لیکن ایک راجدھانی میں دو بادشاہ گزارا نہیں کر سکتے یہی حال رپورٹرز کا ہے ایک اسٹیشن پر اگر دوسرا صحافی رکھ لیا جائے تو پہلے والا اسے اپنی سلطنت میں دخل اندازی سمجھ کر اس کے خلاف آخری حد تک چلا جاتا ہے مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں حالانکہ ہر شخص نے اپنے قلم کا استعمال کر کے اپنے قلمی جوہر دکھانے ہیں یہاں ایک صحافی دوسرے کو برداشت نہیں کرتا اتحاد تو بہت دور کی بات ہے
سوال:
پاکستان کے صحافیوں کے نام کیا پیغام دیں گے ؟
جواب:
صحافی بننے کے لیے صحافت سیکھیں ایک کریانہ کی دوکان بغیر سیکھے نہیں بنائی جا سکتی موچی بغیر سیکھے کھوکھا نہیں چلا سکتا تو بغیر مہارت تجربے اور اہلیت کے صحافی بننا کیسے ممکن ہے قلم ہماری حرمت ہے عزت ہے جیسے کوئی اپنی بیوی کو دوسرے کے ساتھ برداشت نہیں کرتا ایسے ہی اپنی قلم دوسرے کے ہاتھ میں برداشت نہیں کی جا سکتی صحافی اپنی صحافت خود کریں دوسروں سے خبریں لکھوانے کا رواج چھوڑ دیں شوق ہے تو خود لکھیں ورنہ قلم اور صحافت کی جان چھوڑ دیں یہ آپکا صحافت پر احسان ہو گا جب خبریں ہی خود نہیں لکھ سکتے تو پھر کیسی صحافت!
انٹرویو میاں غفار احمد ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں گروپ ملتان
میزبان مہر فیصل حیات
معاون قسور حسین شاہ
ترتیب و اہتمام ون مین میڈیا درکھانہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں