104

ڈی پی او خانیوال محمد علی وسیم نے خاتون کو نازیبا میسج بھیجنے پر ٹی ایس ائی عون عباس کو معطل کر دیا ؛ رپوٹ طلحہ راجپوت

محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث بننے والی ”کالی بھیڑوں“ کے خلاف کاروائی کرکے میرٹ اور قانون پسند افسر ہونے کا ثبوت دینے پر
ویل ڈن! ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم
عدلیہ کے حوالے سے ایک مشہور مقولہ ہے کہ جج خود نہیں بولتے بلکہ ان کے فیصلے بولتے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ یہ مقولہ صرف جج کیلئے نہیں بلکہ قانون اور انصاف فراہم کرنے والے افسران پر لاگو کیا جاسکتا ہے۔ضلع خانیوال کے عوام اس لحاظ سے انتہائی خوش قسمت ہیں کہ یہاں تعینات ہونے والے ”ڈسٹرکٹ پولیس افسران“ میں زیادہ تر ایسے پولیس افسران آئے،جو جرائم کے خاتمہ،شہریوں کی جان ومال کے تحفظ،بلاامتیاز انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کیلئے میرٹ کو ترجیح دینے کی صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔حال ہی میں اپنے تعینات ہونیوالے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم نے گزشتہ روز اپنے میرٹ پر مبنی فیصلہ کرکے اس بات کا واضح پیغام دیا ہے کہ جو بھی قانون شکنی کا مرتکب ہوگا،وہ اپنے کئے کی سزا ضرور پائے گا۔اس تمام تر تمہید کاپس منظر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم کی جانب سے اپنے محکمہ پولیس میں موجود ”کالی بھیڑوں“کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لاناہے۔محکمہ پولیس،جس کا بلند مشن عوام کی جان ومال اور عزت کا تحفظ کرنا ہے۔محکمہ پولیس میں بھرتی ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں میں چھپی ہوئی کچھ کالی بھیڑیں اپنے فرائض منصبی دیانتداری کے ساتھ انجام دینے کی بجائے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں،جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ایسی ہی کالی بھیڑوں میں شامل ایک ٹی ایس آئی ملک عون عباس اعوان بھی ہے۔جس کے خلاف خانیوال کے ایک معروف نجی کالج کی خاتون لیکچرار نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خانیول کو 19مارچ 2020ء کوحصول انصاف کیلئے دی گئی اپنی تحریری شکایت میں پولیس تھانہ صدر میاں چنوں میں تعینات ٹرینی سب انسپکٹر ملک عون عباس اعوان پر مبینہ طور پر الزام لگاتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ خود کوایس ایچ او ظاہرکرنے والا ٹی ایس آئی ملک عون عباس اعوان اپنے موبائل نمبر03216886565سے اسے غیر اخلاقی مسیجز بھیج رہا ہے اور میرے پرسنل موبائل فون کا نکلوائے گئے ڈیٹاکی بنیاد پر مجھے بلیک میل کررہا ہے۔جس پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم نے کاروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر ملک عون عباس اعوان کے خلاف لگائے الزامات کی اعلی پولیس آفیسر سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی،جس میں تفتیشی افسر نے فریقین کو سننے اور ثبوتوں کی روشنی میں تحقیقات کرکے ٹی ایس آئی ملک عون عباس اعوان پر اپنے عہدے کا ناجائز اور خاتون کو بلیک میل اور ہراساں کئے جانے کے الزامات کو درست قراردیتے ہوئے محکمانہ کارروائی کئے جانے کی سفارش کی۔انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم نے ٹی ایس آئی ملک عون عباس اعوان کو معطل کرتے ہوئے اسے لائن حاضر کردیا ہے۔یادرہے کہ گزشتہ دنوں پولیس تھانہ مخدوم پورکے ایس ایچ اومحمد ظفر موہانہ بھی ایک بس ہوسٹس کو ٹیلی فون پر ”جنسی“ طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے کے الزام میں معطل کئے جانے بعد ملازمت سے برخاست ہوچکے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم نے جس جرات مندی اور میرٹ کی بنیاد پر ایک خاتون کو انصاف فراہم کیا،وہ یقینا ان کے اعلیٰ خاندان کے چشم وچراغ،والدین کی جانب سے اچھی تربیت دئیے جانے کا ثبوت ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم جیسے افسران اور انسان،ایسے معاشروں کیلئے کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں ہیں،جن معاشرو ں میں بااثر ”قانون“ کو کھلونا سمجھتے ہوں اور اپنے خلاف کسی قسم کی کاروائی ہونے کا خواب دیکھنا بھی گناہ سمجھتے ہوں۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ! ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم جیسے انصاف اور میرٹ پسند پولیس افسران کو اپنی حفظ وامان میں رکھے(آمین)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں