92

پسند کی شادی کا بھیانک انجام خانیوال کے جوڑے کی حیرت ناک داستان ایڈوکیٹ طاہر چوہدری کی قلم سے

لڑکی کے اغوا کا ایک کیس تھا۔یہ دراصل اغوا نہیں بلکہ پسند کی شادی تھی۔ دونوں نے رسمی نکاح تو کر لیا تھا لیکن لڑکی کے خاندان والوں نے لڑکے پر 365 بی کی ایف آئی آر درج کروا دی۔(اغوا برائے زنا کاری) لڑکا لڑکی میرے پاس آئے۔لڑکا ابھی نوعمر تھا۔جب کہ لڑکی کی عمر کافی زیادہ تھی۔خاتون ہی کہیں تو زیادہ بہتر ہے۔تاہم یہ ابھی تک غیر شادی شدہ تھی۔
ان دونوں کے ساتھ لڑکے کی ماں بھی تھی۔جو مسلسل رو رہی تھی۔ کہ بیٹے نے بڑا غلط کام کیا ہے۔پولیس مسلسل چھاپے مار رہی ہے۔ہم غریب لوگ ہیں۔ہمیں بچا لیں۔
میں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ کہ ان دونوں کو پہلے اپنے والدین کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔وہ نہ مانتے تو تب کی بات اور ہوتی۔چونکہ یہ لڑکی کچھ بھی بتائے بغیر گھر سے آگئی ہے تو یہ تو واقعی غلط ہوا۔ لیکن اب اس غلطی کے ازالے کا آپ کے پاس ایک ہی طریقہ ہے کہ لڑکی کو واپس نہ جانے دیں۔ کہ ایسے کیسز میں عموما لڑکا بری طرح پھنس جاتا ہے۔ میرے باس کہا کرتے تھے کہ گھر والوں کی مرضی کے بغیر شادی کے اکثر مقدمات ایک طرح سے لڑکے کا ریپ ہوتے ہیں۔ پرچہ کٹنے پر لڑکی واپس جاتی ہے تو عموما اپنے والدین اور خاندان والوں کے دباؤ میں آکر لڑکے کے خلاف بیان دے دیتی ہے کہ اس نے مجھے اغوا کیا تھا۔زبردستی نکاح نامے پر دستخط کروائے اور پھر زنا کرتا رہا۔ لڑکا کئی سال کیلئے جیل میں چلا جاتا ہے۔یہ لڑکے کے ریپ کے مترادف ہی ہوتا ہے۔
لڑکے کی ماں بہت پریشان تھی۔کہ ہم 3 دن سے اپنے گھر سے بھاگے ہوئے ہیں۔پولیس ہمارے پیچھے ہے۔لڑکی کی بازیابی کیلئے ہمارے رشتہ داروں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔ہمیں بچا لیں۔
میں نے لڑکا لڑکی دونوں سے الگ الگ بات کی۔ لڑکی بھی واپس نہیں جانا چاہتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ واپس گئی تو گھر والے اسے مار دیں گے۔میں نے کہا کہ آپ کی عمر اتنی زیادہ ہے۔پہلے سے شادی شدہ تو نہیں۔کہنے لگی نہیں۔گھر والوں نے ابھی تک شادی کی ہی نہیں۔کچھ جائیداد کا چکر ہے۔میرے نام کچھ وراثتی زمین وغیرہ بھی ہے۔اسلئے شاید۔
لڑکے کو الگ کر کے پوچھا کہ تم بتاؤ۔کہنے لگا سر جی۔میرا تو شادی کا کوئی چکر ہی نہیں تھا۔ہم اکثر ڈیٹ مارتے ہیں۔اس بار آئی تو کہتی میں نے واپس نہیں جانا۔واپس جانے کا بولا تو زہر کھا لوں گی۔مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں اب۔میں تو برا پھنس گیا ہوں۔ واپس بھیجتا ہوں تو اس نے میرے خلاف بیان دے دیا تو میں تب بھی برا پھنس جاؤں گا۔
دونوں رسمی نکاح کر چکے تھے۔تاہم ابھی تک عدالت میں کوئی بیان وغیرہ نہیں ہوا تھا۔
میں نے لڑکے کو کہا کہ اب چونکہ تم نکاح کرچکے ہو تو اسے واپس نہ بھیجو۔ایک اچھی شادی شدہ زندگی گزارو۔ واپس بھیج کر تم اب اس کی زندگی بھی خراب کرو گے اور اپنی بھی۔ماں کو بھی کہا کہ اب اسے بطور بہو قبول کریں اور پیار دیں۔وقتی خوف تھا یا کچھ اور، انہیں بات سمجھ آگئی۔ میں نے انہیں کہا جب تک میں کلیئر نہ کروں۔چھپ کر رہو اور کل عدالت آجانا۔تمہارے کسی قریبی عزیز تک کو تمہارے کسی شیڈول وغیرہ کا نہ پتہ ہو کہ کہاں رہ رہے ہو،کب آ رہے ہو کب جا رہے ہو اور کس جگہ جا رہے ہو وغیرہ وغیرہ۔کہ کسی طرح پولیس کو یا لڑکی کی فیملی کو تمہارے ٹھکانے وغیرہ کا پتہ لگ گیا،تم اٹھائے گئے تو معاملہ بہت بگڑ جائے گا۔
اگلے دن دونوں مجسٹریٹ کی عددالت میں آگئے۔لڑکی کا 164 کا بیان ریکارڈ کروانا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے اس لڑکے سے شادی کی ہے۔کوئی زور زبردستی وغیرہ نہیں۔جج صاحب کہنے لگے کہ آج پولیس اور لڑکی کی فیملی کو نوٹس ہوں گے۔بیان کل ریکارڈ ہوگا۔نوٹس کرنا اب لازمی ہوگیا ہے۔ ان کا ترلا کیا کہ سر لڑکی کے خاندان والوں کو پتہ چل گیا تو وہ ان دونوں کو قتل کر دیں گے۔اس خاندان کا تعلق ایک قبائلی علاقے سے ہے۔وہ ان دونوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔غیرت کے نام پر قتل کے اس طرح کے واقعات ہر روز ہوتے ہیں۔مہربانی کریں۔جج صاحب نے بھی بات مان لی۔ریڈر کو کہا کہ نوٹس کر تو دو لیکن یہ بھجواؤ نہ۔
اگلے دن لڑکی کا 164 کا بیان ریکارڈ ہوگیا۔اور اسی دن سیشن جج صاحب کی کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کا کیس دائر کر کے وہ بھی منظور کروا لی۔لڑکے کی 80 فیصد جان اب چھوٹ چکی تھی۔قانونا اسے کوئی فکر نہیں رہ گئی تھی۔تاہم ایف آئی آر کا اخراج ابھی باقی تھا۔اگلے دن مجھے اس کیس سے متعلقہ پولیس آفیسر (انویسٹی گیشن آفیسر) کی کال موصول ہوئی۔ملاقات کیلئے پوچھا اور آگئے۔ سلام دعا کے بعد کہنے لگے کہ سر جی لڑکی واپس کروا دیں۔میرا مدعی فیملی سے ذاتی خاندانی تعلق ہے۔مہربانی ہوگی۔میں آپ کو ایک معقول رقم بھی دلوا دوں گا۔ میں نے کہا یہ میرے کلائنٹ ہیں۔میں ایسا نہیں کرسکتا۔جو بات ہوگی عدالت کے ذریعے ہی ہوگی۔اور میں اس کیس میں بس اس حد تک ہی انوالو ہوں کہ اپنے موکل کو عدالت میں ریپریزنٹ کروں۔باقی آپ جانیں،عدالت جانے اور دونوں فیملیز۔ میں نے عدالت میں اپنے کلائنٹ کی نمائندگی کرنا ہوتی ہے۔میں ایسی کوئی ڈیل وغیرہ نہیں کرتا۔ بلکہ الٹا آپ مہربانی کریں۔ کیس میرٹ کا ہے۔ لڑکے کا والد نہیں ہے۔ماں ایک بزرگ خاتون ہے۔غریب فیملی ہے۔ ان کی ایف آئی آر خارج کر کے اگلی پیشی پر رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔معاملے کو زیادہ لٹکائیں نہ۔ انہوں نے کچھ اصرار کیا کہ میری بات مان لیں۔آپ کا مالی فائدہ وغیرہ بھی ہوگا۔اس تھانے سے متعلق کوئی بھی کام ہو تو آپ مجھے بس زحمت دینا وغیرہ وغیرہ۔
میں نہیں مانا تو کہنے لگے کہ ٹھیک ہے آپ میری نہیں مانتے،میں آپ کی بات مان لیتا ہوں۔آپ کے کہنے پر اگلی تاریخ پر اخراج رپورٹ لے آؤں گا۔لیکن مجھے یہ بتائیں کہ مجھے کتنا خرچہ دلوائیں گے۔میں نے صرف جاننے کیلئے کہ صاحب کتنے پیسے مانگتے ہیں۔پوچھا تو انہوں نے 50 ہزار کا تقاضا کیا۔اور وہ بھی اسلئے کہ فیملی غریب ہے وغیرہ وغیرہ۔میں نے کہا کہ میں فیملی سے پوچھ کر بتاؤں گا۔میں حیران بھی ہوا کہ ابھی تو دوسری پارٹی سے ذاتی تعلق اور غیرت وغیرہ کی باتیں کر رہا تھا۔ابھی میرے ساتھ مل کر اس خاندان کی حمایت کا فیصلہ کر لیا۔کہ پیسے دے دو،اخراج رپورٹ لے آؤں گا۔
اتفاق یہ کہ اسی تھانے میں ایک اور تفتیشی بھی میرا اچھا واقف تھا۔ میں نے اس سے رابطہ کیا۔اس نے بتایا کہ اس پر اعتبار نہ کرنا۔ بڑا کرپٹ بندہ ہے۔یہ پرچہ خارج نہ کرے تو میں آپ کی تفتیشی افسران کے انچارج سے بات کروا دوں گا۔وہ اچھا بندہ ہے۔ لیں گے تو وہ بھی کچھ پیسے ہی، لیکن صاحب بات کے پکے ہیں۔
خیر میں نے متاثرہ فیملی سے بات کی۔انہیں بتایا کہ پرچہ تو آپ کا عدالت سے خارج ہو ہی جانا ہے۔زیادہ سے زیادہ ایک یا دو تاریخیں پڑیں گی۔یہ میری گارنٹی ہے۔لیکن اگر تھوڑے پیسے دے کر معاملہ ابھی ختم ہوجاتا ہے تو یہ بھی ٹھیک ہے۔انہوں نے کچھ پیسے مجھے دے دیے۔جو کہ تفتیشی صاحب عدالت آ کر مجھ سے لے گئے۔ ایک مزے کی بات یہ کہ یہ تفتیشی صاحب نماز نہیں چھوڑتے کوئی بھی۔ جماعت کے ساتھ نہ پڑ سکیں تو بعد میں پڑھتے ہیں۔لیکن پڑھتے ضرور ہیں۔ یہ میں نے خود4،3 ملاقاتوں میں مشاہدہ کیا۔
اگلی تاریخ پر میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تفتیشی اخراج رپورٹ نہیں لے کر آیا تھا۔ میرے پوچھنے پر حیلے بہانے کرنے لگ گیا کہ ایس پی صاحب کے پاس جانا تھا اسلئے تیار نہیں کرسکا۔8،7 دن کا وقت اور دے دیں کہ منظور کروانی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔اتنا ٹائم لگ جائے گا۔مجھے اندازہ ہوگیا کہ اس نے دوسری پارٹی سے بھی پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔اُدھر تسلی دی ہوگی کہ میں زیادہ سے زیادہ وقت انہیں الجھا کر رکھوں گا۔ہمیں تسلی دی تھی کہ ختم کر کے لے آؤں گا۔دونوں طرف کو کھانا چاہ رہا ہے۔
میں اس کے وعدے پر رکا ہوا تھا کہ خود ہی اخراج رپورٹ لے آئے گا تو اب ہمیں مزید کسی عدالتی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ اس فیملی کی جان چھوٹ جائے گی۔ کمرہ عدالت میں ہی میں نے اسے کہا کہ اب یہ تمہارا اور اس فیملی کا مسئلہ نہیں۔میرا اور تمہارا مسئلہ ہے۔ تم نے مجھ سے کمٹمنٹ کی تھی۔ اس پر پورے نہیں اترے۔ مجھے بھی شرمندہ کروایا ہے۔ اب تم ایف آئی آر بھی خارج کرو گے اور پیسے بھی واپس کرو گے۔
میں نے اگلے ہی دن ہائیکورٹ میں کویشمنٹ کی رٹ دائر کر دی۔ اس میں تفتیشی صاحب کو بھی کچھ رگڑا لگایا اور انہیں اسی دن نوٹس کروائے۔
اگلے ہی دن تفتیشی صاحب مجھے پیسے واپس کرنے آگئے۔مزے کی بات یہ کہ وہ اخراج رپورٹ کی کاپی بھی ساتھ لے کر آئے تھے۔ایک ہی دن میں منظور ہوگئی۔میں نے شکریہ کے ساتھ دونوں چیزیں وصول کیں اور ہائیکورٹ میں دائر کردہ پٹیشن واپس لے لی۔
اور ہم دونوں ہنسی خوشی اپنے اپنے گھر کو چل دیے۔
کہانی سے جتنے سبق نکال سکتے ہیں آپ خود نکالیں۔
طاہر چودھری،ایڈووکیٹ ہائیکورٹ،لاہور۔
03336669850.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں