325

ایم پی اے نشاط خان ڈاہا کو کس سے خطرہ ہےان کی صحافت کا اولین حذف کون ہےخانیوال ضلع میں مویشی چوری کون کراتا ہے منشیات فروشی میں کون کون ملوث ہے: تحریر امین وارثی

#ایم پی اے نشاط خان ڈاہا
کو کس سے خطرہ ہے؟
#ان کی صحافت کا اولین حذف کون ہے؟
#خانیوال ضلع میں
مویشی چوری کون کراتا ہے؟
# منشیات فروشی میں کون کون ملوث ہے ؟
👇
ن لیگ کے ممبر پنجاب اسمبلی نشاط خان ڈاہا جب سے روزنامہ خبریں کے خانیوال میں ڈسٹرکٹ چیف مقرر ہوئے ہیں خانیوال کی صحافت میں ایک بھونچال سا آیا ہوا ہے گزشتہ شب میں نے دیکھا روزنامہ پاکستان کے نمائندےشیخ صابر کی آئی ڈی سے فیس بک پر لائیو چل رہا تھا عبدالوحید عمرانہ اور استاد صحافی جاوید فخری صاحب کے ساتھ نشاط خان ڈاہا بیٹھے ہوئے تھے اسے پروگرام آمنا سامنا کے نام سے وحید عمرانہ نے ہوسٹ کیا اور نشاط خان ڈاہا نے مختلف سوالوں کے جواب میں بتایا کہ ڈی پی او خانیوال فیصل شہزاد سمیت دو لوگوں کی طرف سے مجھے خان کا خطرہ ہے میں ان کے خلاف درخواست دے رہا ہوں اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ لوگ ذمہ دار ہونگے انھوں نے دوسرے آدمی کا نام نہیں بتایا انھوں نے کہا کہ سابق ریڈر ٹو ڈی پی او مہر سعید مویشی چوروں کا سرپرست ہے اس کو نکال دیں ضلع خانیوال میں مویشی چوری ختم ہو جائے گی نشاط خان ڈاہا نے بتایا کہ انھوں نے ایس پی انوسٹی گیشن کوضلع خانیوال میں منشیات بیچنے والے افراد کی لسٹ دی ہے اور وہ خریداری بھی کروا سکتے ہیں. تھانے منشیات فروشوں سے منتھلی لیتے ہیں تھانہ کہنہ کی خاتون ایس ایچ او کا ریٹ دوسروں کی نسبت زیادہ ہے انہوں نے بتایا کہ ضلع خانیوال میں سب سے اچھا اور قابل ڈی پی او آیا تھا اس کا نام زاہد مروت ہے. انہوں نے کہا کہ ڈی پی او فیصل شہزاد نے تین چار روز پہلے جو پریس کانفرنس کی اس میں ڈاکوؤں سے پکڑا گیا اسلحہ جو دکھایا گیا وہ ناقابل استعمال تھا واردات ون ٹو فائیو پر ہوئی جبکہ برآمدگی میں دوسرے موٹر سائکل دکھائے گئے ایسا لگتا ہے کہ پولیس اس طرح جعلی کارروائیاں شو کرتی ہے پریس کانفرنس میں پیش کئے گئے ڈاکوؤں کے چہرے ڈھانپے گئے ہمیں کیا پتہ وہ کون ہیں اصل ڈاکو دندناتے پھرتے ہیں پولیس یتیم بچوں کو پکڑ کر ان کے منہ ڈھانپ کر انہیں ڈاکو بنا کر پیش کر دیتی ہے انہوں نے کہا کہ ڈی پی او کے پاس ان کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا نہ ہے میں ڈی پی او سمیت افسران کی نااہلی پر سوال اٹھاتا رہوں گا.
نشاط خان ڈاہا کی جاوید فخری اور وحید عمرانہ کے ساتھ ان کے فیس بک لائیو پروگرام آمنا سامنا میں ہوئی گفتگو سے عیاں ہو گیا ہے کہ ان کی صحافت کا اصل حدف ڈی پی او خانیوال ہیں جنہوں نے ان کے قریبی عزیز مسعود مجید ڈاہا کے عجوہ سٹی والے مقدمے کو خارج کیا ہے یاد رہے کہ نشاط خان کی طرف سے خبریں میں پہلی سٹوری جو شائع ہوئی تھی وہ بھی عجوہ سٹی سے متعلق تھی نشاط خان ڈاہا ہر اس افسر کے خلاف سامنے آسکتے ہیں جو ان کی لابی کے اینٹی اخباری نمائندگان کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں