183

سانڈے کے ساتھ ھونا والا ظلم اتائی نیم حکیم اور عوام : بیورو چیف اصف علی خان

سانڈا پاکستان میں پایا جانے والا ایک جانور ہے، جو چھپکلی کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ مشہور ہے کہ اس کی چربی ایسی دیسی یا یونانی حکمت کی ادویات میں استعمال ہوتی ہے جو مردانہ طاقت بڑھانے میں مفید ہیں۔ اس کے لیے بڑے پیمانے پر اس کا شکار کیا جاتا ہے۔ لیکن زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ شکار کے بعد اس جانور کو نہایت اذیت ناک طریقے سے رکھا جاتا ہے۔

پکڑتے ہی، اس کی کمر توڑ دی جاتی ہے جس سے یہ ہمیشہ کے لیےمعذور اور بے حرکت ہو جاتا ہے۔ اس کا اگلا دھڑ بس اتنا کام کرتا ہے کہ یہ اگلی دو ٹانگوں پر سر اٹھائے رکھتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندہ ہے، جب کہ باقی دھڑ بے جان پڑا رہتا ہے۔ اسے پنجرے میں رکھ کر بھی قید کیا جا سکتا تھا مگر ان شکاریوں اور تاجروں کو اس کی کمر توڑ کر معذور بنا کر رکھنا زیادہ آسان طریقہ محسوس ہوا۔
اسی درد ناک حالت میں اسے ملک کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ خفیہ طور پر منتقل کیا جاتا ہے، اسی حالت میں اسے کھانا دیا جاتا ہے اور تب تک اسے زندہ رکھا جاتا ہے جب تک اس کا کوئی گاہگ نہ آ جائے، جس کے بعد اسے ذبح کر کے اس کی چربی نکال لی جاتی ہے یا اسے اسی حالت میں اس وقت تک زندہ رہنا پڑتا ہے جب تک اسے موت نہ آ جائے۔
مَعدُومیت کے خطرے سے دوچار ہونے اور اس کا شکار غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود، اس کے شکار کے روکنے کے لیے کوئی موثر کارِروائی نہیں کی جا رہی۔ پاکستان کے ہر بڑے شہر کے مرکزی بازاروں میں فٹ پاتھوں پر آپ کو عطائی نظر آتے ہیں جو اس جانور کو اس حالت میں رکھے ہوئے اپنا غیر قانونی کاروبار کرتے ہیں۔ لوگوں کی صحت سے متعلق اس کاروبار کا کوئی اجازت نامہ بھی ان کے پاس نہیں ہوتا۔

ستم بالائے ستم یہ ہے کہ مشرق وسطٰی سے عرب مہمان اس جانور کا شکار کرنے سندھ وغیرہ کے علاقوں میں آتے ہیں، وہ اسےکھانے کے بہت شوقین ہیں۔ یوں اس جانور کا بے دریغ شکار ہوتا ہے۔
میں نے محکمہ جنگلی حیات کے مرکزی دفتر لاہور سے بھی متعدد بار رابطہ کیا لیکن تا دمِ تحریر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ حکومت پنجاب کو بھی اس کی شکایت درج کرائی جا چکی ہے۔
میری تمام قارئین سے گزارش ہے اس جانور کو اس اذیت اور معدومیت سے بچانے کے لیے متعلقہ محکمہ جات، اخبارات، ٹیلی ویژن، اور سوشل میڈیا پر مہم چلائیں۔ فُٹ پاتھوں پر بیٹھے نام نہاد حکیموں کا بائیکاٹ کریں، اصول صحت سے ناواقف یہ عطائی، دوائی نہیں، بیماری بیچ رہے ہیں۔ عوام کو اس بارے میں بھی آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں