120

مشہور صوفی دانشور، شاعر، ادیب اور کالم نگار واصف علی واصف کا یومِ پیدائش اور تعارف : رپوٹ طلحہ راجپوت

واصف علی واصف 15 جنوری 1929ء کو شاہ پور ، خوشاب میں پیدا ہوۓ۔ آپ کے والد ماجد کا نام ملک محمد عارف تھا، جن کاتعلق وہاں کے قدیم اور معزز اعوان قبیلے سے تھا۔ اعوان قوم کی ایک ممتاز شاخ کنڈان سے ان کا تعلق تھا۔

بعض کتب ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻋﻮﺍﻥ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ سلسلہ نسب حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔

ﺁﭖ ﻧﮯ ابتدائی تعلیم خوشاب میں حاصل کی ۔ یکم جون 1942ء کو گورنمنٹ ہائی سکول خوشاب سے مڈل کا امتحان پاس ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻧﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﮭﻨﮓ ﭼﻠﮯ ﺁﺋﮯ۔ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﻣﺎﮨﺮِ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺋﺪِ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺯﯾﺮِ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﺍﻣﺮﺗﺴﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﻘﯿﮧ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﮭﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﻮﺍﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔

ﺟﮭﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺭﺍﻥِ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﻮﮨﺮ ﺧﻮﺏ ﮐﮭﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺗﻌﻠﯿﻤﯽ ﮐﯿﺮﯾﺌﺮ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮨﻮﺍ۔ ﻣﯿﭩﺮﮎ یکم نومبر 1944ء کو گونمنٹ ہائی سکول جھنگ سے کی۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﻮﺭﮈ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﺳﭧ ﮈﻭﯾﮋﻥ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ایف اے 2 جنوری 1948ء کو گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج جھنگ سے پاس کیا۔ ‘ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻓﺮﺳﭧ ﮈﻭﯾﮋﻥ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ۔ بی اے 19 دسمبر 1949ء کو گورنمنٹ کالج جھنگ سے پاس کیا ﺍﻭﺭ ﺍِﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺑﮭﯽ ﻓﺮﺳﭧ ﮈﻭﯾﮋﻥ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ۔ ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﺍﯾﻢ ﺍﮮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺍﺩﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺁﭖ ﮔﻮﺭﻧﻤﻨﭧ ﮐﺎﻟﺞ ﻻﮨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺳﭩﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ 3 جون 1954ء کو سول سروس کا امتحان پاس کیا۔

آپؒ نہایت خوبصورت تھے ، دراز قد تھے اور ایک مضبوط جسم کے مالک تھے۔ اسکول اور کالج میں ہاکی کے بہت اچھے کھلاڑی تھے۔

ﺳﻨﮧ 1948ﺀ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﺎﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﻦِ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﭘﺮ ” ﮐﺎﻟﺞ ﮐﻠﺮ “ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﺎﻟﺞ ﮐﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮪ ﭼﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﺼﮧ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﮐﺎﻟﺞ ﮐﯽ ﺍﻧﮩﯽ ﮔﻮﻧﺎﮞ ﮔﻮﮞ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ 1949 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ” ﺍﯾﻮﺍﺭﮈ ﺁﻑ ﺁﻧﺮ “ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔

27 ﺳﺘﻤﺒﺮ 1954 ﺀ ﮐﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻭﯾﺴﭧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﭨﺮﯾﻨﻨﮓ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯﯼ ﺳﺮﭨﯿﻔﮑﯿﭧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﭨﺮﯾﻨﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﺮﺍﮨﺎ ﮔﯿﺎ۔

3 ﺟﻮﻥ 1954ﺀ ﮐﮯ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﮔﺰﭦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﻮﻝ ﺳﺮﻭﺱ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﭘﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﯽ ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﻼﻥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻧﻮﮐﺮﯼ ﮐﻮ ﺩﺭﺧﻮﺭِ ﺍﻋﺘﻨﺎ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ۔

ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺭﯾﮕﻞ ﭼﻮﮎ ﻻﮨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﭧ ﮐﻼﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺍﻧﺎﺭ ﮐﻠﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﺎﺑﮭﮧ ﺭﻭﮈ ﭘﺮ ” ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﮐﺎﻟﺞ “ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﺪﺭﯾﺴﯽ ﺍﺩﺍﺭﮦ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ۔ انگریزی زبان کے استاد رہے۔

24 اکتوبر 1970ء بروز ہفتہ آپ کی شادی ہوئی۔
واصف علی واصف کا ایک بیٹا اور تین صاحبزادیاں تھیں۔

ﻭﺍﺻﻒ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﺑﺮﯾﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﮦ ﻧﯿﺎﺯ ﺍﺣﻤﺪ ‏( ﭼﺸﺘﯽ ﻗﺎﺩﺭﯼ ‏) ﮐﮯ ﺁﺳﺘﺎﻧﮧ ﻋﺎﻟﯿﮧ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﺗﮭﮯ۔ 1969 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺯﺍﺋﺮﯾﻦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﻓﺪ ﺍﻣﯿﺮ ﺧﺴﺮﻭ ﮐﮯ ﻋﺮﺱ ﭘﺮ ﺩﮨﻠﯽ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺮﯾﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﻘﺎﮦ ﻧﯿﺎﺯﯾﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﺴﻦ ﻣﯿﺎﮞ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺑﯿﻌﺖ ﮨﻮﺋﮯ۔ ‏

ﯾﮧ 1962ﺀ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻟﻨﮕﺮ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮨﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﭼﺎﺋﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﺎﺋﮯ ﻧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ۔

ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺷﻌﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﻭ ﺭﻓﺖ ﺭﮨﺘﯽ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﯾﺐ ‘ ﺷﻌﺮﺍﺀ ‘ ﺑﯿﻮﺭﻭﮐﺮﯾﭧ ‘ ﻭﮐﯿﻞ ‘ ﻣﻠﻨﮓ ‘ ﻓﻘﺮﺍﺀ ‘ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺍﻭﺭ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺫﻭﻕ ﺍﻭﺭ ﻃﻠﺐ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻓﯿﺾ ﯾﺎﺏ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﺧﺒﺎﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺮﺍﺋﺪ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭼﻨﺪ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮐﻼﻡ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺭﻑ ﻧﻮﺷﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﮐﺘﺎﺑﺖ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﻣﻨﻈﺮِ ﻋﺎﻡ ﭘﺮ ﺁﺋﯽ۔ ﯾﮧ 1978 ﺀﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮐﻼﻡ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ” ﺷﺐ ﭼﺮﺍﻍ “ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔

ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﮐﺎﻟﺞ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﭘﺮ ﺷﮑﻮﮦ ﺍﻭﺭ ﺟﻼﻝ ﻭ ﺟﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﺮﻗّﻊ ﻓﻮﭨﻮﮔﺮﺍﻑ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐِ ﺭﻭﻧﻤﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻣﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞِ ﻋﻠﻢ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﺷﺪ ﻭ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻻﻣﺘﻨﺎﮨﯽ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﭼﻞ ﻧﮑﻼ۔ ﯾﮧ ﺩﻭﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺎ ﺩﻭﺭ ﺗﮭﺎ۔

ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺑﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻧﮯ ” ﻣﺤﻔﻞ “ ﮐﺎ ﺭﻭﭖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﺤﻔﻞ ﺟﻤﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺷﺮﻭﻉ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻞ ﮐﯽ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺷﮑﻞ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﻣﻘﺎﻡ ” ﻟﮑﺸﻤﯽ ﭼﻮﮎ “ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻗﺬﺍﻓﯽ ﺳﭩﯿﮉﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﻓﺰﯾﮑﻞ ﭨﺮﯾﻨﻨﮓ ﮐﮯ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﻧﯿﺎﺯﯼ ﻣﺮﺣﻮﻡ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻃﻮﯾﻞ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﯿﺎ۔

ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﭘﺮﻟﻮﮒ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ۔ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﻡ ﮔﺎﮦ 22 ﻓﺮﺩﻭﺱ ﮐﺎﻟﻮﻧﯽ ﮔﻠﺸﻦ ﺭﺍﻭﯼ ﭘﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ۔

1948 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﻢ ﺍﮮ ﺍﻭ ﮐﺎﻟﺞ ﻻﮨﻮﺭﮐﯽ ” ﻣﺠﻠﺲِ ﺍﻗﺒﺎﻝ “ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﻋﻮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﺤﻔﻞ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺟﻤﯽ۔ ﭼﯿﺪﮦ ﭼﯿﺪﮦ ﺍﮨﻞِ ﻋﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞِ ﻗﻠﻢ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﯿﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺩﺍﺩ ﺭﻭﺯﻧﺎﻣﮧ ﻧﻮﺍﺋﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﺍﺻﻒ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺗﺐ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻧﻮﺍﺋﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻟﻢ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮩﻼ ﮐﺎﻟﻢ ” ﻣﺤﺒﺖ “ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﺍ۔ ﻧﺪﺭﺕِ ﮐﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﮬﮍﺍ ﺩﮬﮍ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﻨﯽ ‘ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺠﺎﺏ ﭘﺎﯾﺎ۔

ﻭﺍﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﻭﺍﺻﻒ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ” ﻋﻈﯿﻢ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻣﻮﺕ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ “ ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ 18 ﺟﻨﻮﺭﯼ 1993ﺀ ﺑﻤﻄﺎﺑﻖ 24 ﺭﺟﺐ 1415 ﮪ ﮐﯽ ﺳﮧ ﭘﮩﺮ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺩﺍﺭِ ﻓﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﻮﻧﺪ ﻟﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ ﻭ ﻋﺮﻓﺎﻥ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮨﺮ ﺳُﻮ ﭘﮭﯿﻠﺘﺎ ﮨﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﯿﻠﺘﺎ ﮨﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﻣﻘﺼﺪِ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾﻌﻨﯽ ” ﺍﺳﺘﺤﮑﺎﻡ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﺓ ﺛﺎﻧﯿﮧ “

ان کی نثری تصانیف میں کرن کرن سورج، قطرہ قطرہ قلزم، حرف حرف حقیقت، دل دریا سمندر، بات سے بات، دریچے، ذکر حبیب، مکالمہ اور گفتگو شامل ہیں جبکہ ان کے شعری مجموعے شب چراغ، شب زاد اور بھرے بھڑولے کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے ہیں۔

حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک فرمان ہے کہ ”عظیم لوگ بھی مرتے ہیں مگر موت ان کی عظمت میں اضافہ کرتی ہے“

واصف علی واصف 18 جنوری 1993ء کی سہ پہر کو لاہور میں وفات پاگئے تھے اور لاہور ہی میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

آپ نے انسانیت کی خدمت اور عالمگیر بھائی چارہ کا درس دیا. آپ کی عملی, ادبی اور دینی خدمات لازوال ہیں. آپ نے منکرات سے پاک تصوف کو رواج دیا جس کی بنیاد شریعت کی پاسداری اور انسانیت کی خدمت پہ تھی. آپ کے اہم موضوعات میں پاکستان, تصوف اور عالمگیر انسانیت کا پیغام شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#تصانیف

قطرہ قطرہ قلزم
حرف حرف حقیقت
دل دریا سمندر
بات سے بات – 1993ء
گمنام ادیب – 1980ء
مکالمہ – 1983ء
ذکر حبیب
دریچےگفتگو 1 تا 28 – 1992ء

#انگریزی_تصانیف

The beaming soul A

#شاعری

شب چراغ – 1978ء
بھرے بھڑولے، پنجابی شاعری

#منتخب_اقتباسات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گنہگار کی پردہ پوشی اسے نیکی ہر لانے کے لیے ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔ بدنامی بعض اوقات مایوس کرکے انسان کو بے حس کر دیتی ہے اور وہ گناہ میں گرتا ہی چلا جاتا ہے۔ عزت نفس ختم ہوجائے تو انسان کے لیے جرم و گناہ بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔

غریبوں کی عزت نفس زندہ کرو۔ کسی کو غنڈہ نہ کہو۔ کہنے سے ہی غنڈہ بنتا ہے۔ پورے نام سے پکارو۔

اولیاء اللہ محبت سے گنہگاروں کی اصلاح کرتے رہے ہیں۔ اس کے برعکس مجرم کو پکا مجرم بنانے میں ظالم سماج کا ہاتھ نمایاں نظر آئے گا۔ یہ مجرم اور گنہگار ہمارے اپنے سماج کا حصہ ہیں۔ ان کی اصلاح ہوتی تو ان کی تعداد میں اضافہ نہ ہوتا۔

محب اور محبوب کی الگ الگ تعریف مشکل ہے۔ محبت کے رشتے سے دونوں ہیں۔ کسی کی کسی پر فوقیت کا بیان نہیں ہو سکتا۔ مقام محبوب مقام محب سے کم تر یا بر تر نہیں کہا جاسکتا۔ ایک کی ہستی دوسرے کے دم سے ہے۔ دنیاوی رشتوں میں محب اور محبوب کا تقابل ناممکن ہے۔ حقیقت کی دنیا میں تو اور بھی ناممکن۔ اللہ کو اپنے محبوب سے کتنی محبت ہے کہ اسے باعث تخلیق کائنات فرما دیا۔ اللہ اپنے فرشتوں کے ہمراہ اپنے محبوب پر دورد بھیجتا ہے، اس کے ذکر کو بلند کرتا ہے، اس کی شان بیان کرتا ہے اور محبوب اپنے اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اس کی تسبیح بیان فرماتے ہیں، اس کے لیے زندگی اور زندگی کے مشاغل وقف فرماتے ہیں۔

کامیابی اور ناکامی اتنی اہم نہیں جتنا کہ انتخاب مقصد۔ نیک مقصد کے سفر میں ناکام ہونے والا برے سفر میں کامیاب ہونے والے سے بدرجہا بہتر ہے۔ ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن اس کی زندگی ناکام ہو۔

جھوٹا آدمی کلام الہی بھی بیان کرے تو اثر نہ ہوگا۔ صداقت بیان کرنے کے لیے صادق کی زبان چاہیے۔ بلکہ صادق کی زبان ہی صداقت ہے۔ جتنا بڑا صادق، اتنی بڑی صداقت۔ انسان کا اصل جوہر صداقت ہے، صداقت مصلحت اندیش نہیں ہوسکتی۔ جہاں اظہار صداقت کا وقت ہو وہاں خاموش رہنا صداقت سے محروم کر دیتا ہے۔ اس انسان کو صادق نہیں کہتے جو اظہار صداقت میں ابہام کا سہارا لیتا ہو۔

حکومت نااہل ہوسکتی ہے، غیر مخلص نہیں۔ ملک سے مخلص ہونا حکومت کی ذمہ داری بھی ہے اور ضرورت بھی۔ ملک سلامت رہے گا تو حکومت قائم رہ سکتی ہے۔ اس لیے حکومت ہمیشہ مخلص ہی ہوتی ہے۔

حزب اختلاف حکومت کو غیر مخلص کہتا ہے اور حکومت اپنے مخالفوں کو وطن دشمن کہتی ہے، جو انسان دس سال سے زیادہ عرصے سے ملک میں رہ رہا ہو وہ ملک دشمن نہیں ہو سکتا۔ جس کے ماں باپ کی قبر اس ملک میں ہے وہ غدار نہیں۔

زندگی کے جوازتلاش نہیں کیے جاتے صرف زندہ رہا جاتا ہے زندگی گذارتے چلے جاؤ جواز مل جائے گا ۔ اگر آپ کو کسی طرف سے کوئی محبت نہ ملے تو مایوس نہ ہو ، آپ خود ہی کسی سے محبت کرو ۔ کوئی با وفا نہ ملے تو کسی بے وفا سے ہی سہی ۔ محبت کرنے والا زندگی کو جواز عطا فرماتا ہے زندگی نے آپ کو اپنا جواز نہیں دینا بلکہ آپ نے زندگی کو زندہ رہنے کے لیے جواز دینا ہے ۔ آپ کو انسان نظر نہ آئے تو کسی پودے سے پیار کرو۔ اس کی پرورش کرو، اسے آندھیوں سے بچاؤ ، طوفانوں سے بچاؤ، وھوش و طیور سے بچاؤ، تیز دھوپ سے بچاؤ، زیادہ بارشون سے بچاؤ۔ اس کو پالو پروان۔ چڑھاؤ۔ پھل کھانے والے کوئی اور ہوں ، تب بھی فکر کی کوئی بات نہیں ۔ کچھ نہیں تو یہی درخت کسی مسافر کو دو گھڑی سایا ہی عطا کرے گا۔ کچھ نہیں تو اس کی لکڑی کسی غریب کی سردی گذارنے کے کام آئے گی۔ آپ کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جائے گی ۔ آپ کو زندہ رہنے کا جواز اور ثواب مل جائے گا ۔اگر آپ کی نگاہ بلند ہونے سے قاصر ہے، تو اپنے پاؤں کے پاس دیکھو۔ کوئی نہ کوئی چیز آپ کی توّجہ کی محتاج ہوگی۔ کچھ نہیں تو محبت کا مارا ہوا کتا ہی آپ کے لیے زندہ رہنے کا جواز مہیا کرے گا ۔

سچے انسان کا جھوٹ مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔ جبکہ جھوٹے انسان کا سچ منافقت کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔

اپنے ماحول پر گہری نظر رکھیں۔ اور اس کا بغور مطالعہ کریں۔ غور کریں آپ کے بیوی بچے، ماں باپ، بہن بھایئ، عزیز و اقارب، یار دوست،آپ کے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں۔لوگ آپ کے سامنے آپ کو کیا کہتے ہیں اور آپ کی عدم موجودگی میں آپ کا تذکرہ کس انداز میں کرتے ہیں۔کبھی کبھی خاموشی سے اپنے گھر کے سامنے سے اجنبی ہو کر گزر جاءیں۔اور سوچیں اس گھر میں آپ کب تک ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب یہ گھر تو ہو گا مگر آپ نہیں ہونگے۔ اس وقت اس گھر میں کیا ہو گا آپ کا تذکرہ کس انداز میں ہو گا۔

آپ کا اصل ساتھی اور آپ کا صحیح تشخص آپ کے اند ر کا انسان ہے!
اسی نے عبادت کرنی ہے اور اسی نے بغاوت!
وہی دنیا والا بنتا ہے اور وہی آخرت والا!
اسی اندر کے انسان نے آپ کو جزا اور سزا کا مستحق بنانا ہے۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے!
آپکا باطن ہی آپکا صحیح دوست ہے اور وہی آپ کا بدترین دشمن!
آپ خود ہی اپنے لئے دشوار ی سفر ہو اور خود ہی شادابی منزل !
باطن محفوظ ہو گیا تو ظاہر بھی محفوظ ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#منتخب_کلام

الف سے اللہ
ب باسم اللہ

پ سے پایا
اللہ ہی اللہ

ت سے توبہ
استغفر اللہ

ٹ سے ٹوٹا
دشمن اللہ

ث سے ثروت
بخشے اللہ

ج سے جابر
قادر اللہ

چ سے چاہو
مت غیر اللہ

ح‌سے حامد
محمود اللہ

خ ‌سے خیبر
توڑے اللہ

د دما دم
اللہ ہی اللہ

ذ سے ذاکر
ذکر ہے اللہ

ر سے روٹی
بھیجے اللہ

ز سے زاہد
عابد اللہ

س سے سچا
محبوب اللہ

ش سے شامل
کام میں‌اللہ

ص سے صورت
نہ کوئی اللہ

ض‌سے ضامن
رزق کا اللہ

ط سے طاقت
والا اللہ

ظ سے ظالم
مارے اللہ

ع سے عالم
ہر شے اللہ

غ سے غافل
دور ہے اللہ

ف سے فاقہ
ٹالے اللہ

ق سے قائم
ہر دم اللہ

ک سے کتنا
اچھا اللہ

گ سے گاو
اللہ ہی اللہ

ل سے لشکر
فاتح‌اللہ

م سے محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
محبوب اللہ

ن سے نعمت
مالک اللہ

و سے واصف
بندہ ء اللہ

ہ سے ہر دم
حافظ اللہ

ی سے یاور
یا ولی اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تلخی زبان تک تھی وہ دل کا برا نہ تھا
مجھ سے جدا ہوا تھا مگر بے وفا نہ تھا

طرفہ عذاب لائے گی اب اس کی بددعا
دروازہ جس پہ شہر کا کوئی کھلا نہ تھا

شامل تو ہوگئے تھے سبھی اک جلوس میں
لیکن کوئی کسی کو بھی پہچانتا نہ تھا

آگاہ تھا میں یوں تو حقیقت کے راز سے
اظہار حق کا دل کو مگر حوصلہ نہ تھا

جو آشنا تھا مجھ سے بہت دور رہ گیا
جو ساتھ چل رہا تھا مرا آشنا نہ تھا

سب چل رہے تھے یوں تو بڑے اعتماد سے
لیکن کسی کے پاؤں تلے راستہ نہ تھا

ذروں میں آفتاب نمایاں تھے جن دنوں
واصف وہ کیسا دور تھا وہ کیا زمانہ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صورت
احباب کی صورت ہو کہ اغیار کی صورت

سینے میں اگر سوز سلامت ہو تو خود ہی
اشعار میں ڈھل جاتی ہے افکار کی صورت

جس آنکھ نے دیکھا تجھے اس آنکھ کو دیکھوں
ہے اس کے سوا کیا ترے دیدار کی صورت

پہچان لیا تجھ کو تری شیشہ گری سے
آتی ہے نظر فن ہی سے فنکار کی صورت

اشکوں نے بیاں کر ہی دیا رازِتمنا
ہم سوچ رہے تھے ابھی اظہار کی صورت

اس خاک میں پوشیدہ ہیں ہر رنگ کے خاکے
مٹی سے نکلتے ہیں جو گلزار کی صورت

دل ہاتھ پہ رکھا ہے کوئی ہے جو خریدے؟
دیکھوں تو ذرا میں بھی خریدار کی صورت

صورت مری آنکھوں میں سمائے گی نہ کوئی
نظروں میں بسی رہتی ہے سرکار کی صورت

واصف کو سرِدار پکارا ہے کسی نے
انکار کی صورت ہے نہ اقرار کی صورت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں آرزوئے دید کے کِس مرحلے میں ہوں
خود آئینہ ہوں یا میں کسی آئینے میں ہوں

رہبر نے کیا فریب دیئے ہیں مجھے نہ پوچھ
منزل پہ ہوں نہ اب میں کسی راستے میں ہوں

اِس دم نہیں ہے فرق ، صبا و سموم میں
اِحساس کے لطیف سے اِک دائرے میں ہوں

تیرے قریب رہ کے بھی تھا تجھ سے بے خبر
تجھ سے بچھڑ کے بھی میں تیرے رابطے میں ہوں

ہر شخص پوچھتا ہے میرا نام کِس لیے
تیری گلی میں آ کے عجب مخمصے میں ہوں

میں کِس طرح بیاں کروں حرفِ مدعا
جِس مرحلے میں کل تھا اُسی مرحلے میں ہوں

واصف مجھے ازل سے ملی منزلِ ابد
ہر دور پر محیط ہوں جِس زاویے میں ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیری ہستی عبادت ہو گئی ہے
مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے

تیرے آنے سے پہلے تھی قیامت
تم آئے تو قیامت ہو گئی ہے

سکونِ دل سے اس کا واسطہ کیا
تری جس پر عنائت ہو گئی ہے

سراغِ زندگی بخشا ہے جس نے
اسی غم سے عقیدت ہو گئی ہے

نہیں‌ہے دخل کچھ تیری جفا کا
یونہی رونے کی عادت ہو گئی ہے

وہ آئے غیر کو لے کر لحد پر
مصیبت پر مصیبت ہو گئی ہے

وہ کہتے ہیں‌واصف مر چکا ہے
مبارک ہو شہادت ہو گئی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدلے ہوئے حالات سے ڈر جاتا ہوں اکثر
شیرازہء ملت ہوں بکھر جاتا ہوں اکثر

میں ایسا سفینہ ہوں کہ ساحل کی صدا پر
طوفان کے سینے میں اُتر جاتا ہوں اکثر

میں موت کو پاتا ہوں کبھی زیرِ کفِ پا
ہستی کے گماں سے بھی گزر جاتا ہوں اکثر

مرنے کی گھڑی آئے تو میں زیست کا طالب
جینے کا تقاضا ہو تو مر جاتا ہوں اکثر

رہتا ہوں اکیلا میں بھری دنیا میں واصف
لے نام مرا کوئی تو ڈر جاتا ہوں اکثر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نعرۂ مستانہ، میں شوخیِ رندانہ
میں تشنہ کہاں جاؤں، پی کر بھی کہاں جانا

میں طائرِ لاہوتی، میں جوہرِ ملکوتی
ناسوتی نے کب مجھ کو، اس حال میں پہچانا

میں سوز محبّت ہوں، میں ایک قیامت ہوں
میں اشکِ ندامت ہوں، میں گوہرِ یکدانہ

کس یاد کا صحرا ہوں، کس چشم کا دریا ہوں
خود طُور کا جلوہ ہوں، ہے شکل کلیمانہ

میں شمعِ فروزاں ہوں، میں آتشِ لرزاں ہوں
میں سوزشِ ہجراں ہوں، میں منزلِ پروانہ

میں حُسنِ مجسّم ہوں، میں گیسوئے برہم ہوں
میں پُھول ہوں شبنم ہوں، میں جلوۂ جانانہ

ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺻﻒِؔ ﺑﺴﻤﻞ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻧﻖِ ﻣﺤﻔﻞ ﮨﻮﮞ
ﺍِﮎ ﭨُﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﻝ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﺮﺍﻧﮧ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایہہ بن سَن موتی انمول
ہنجو سانبھ کے رکھنا کول

شہر دے بُوے کُھل جاون گے
پہلے دِل دا بُوا کھول

جس دے ناں دی ڈھولک وجدی
اوسے یار نوں کہندے ڈھول

جو کِیتا تُوں چنگا کِیتا
دَبّی رہن دے، اَگ نہ پھول

میرے ورگا مل جاوے گا
پہلے اپنے ورگا ٹول

سونے ورگی اے جوانی
اینویں نہ مٹی وِچ رول

اج تے پتھّر وی پُچھدا اے
کیہہ چاہناں ایں واصف بول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وچ جنگلاں دے سد پئی ماراں
جے آویں میں جندڑی واراں

میں اک کلی پئی کرلاندی
کونجاں چلیاں بنھ قطاراں

تیرے میرے جھگڑے کادھے
تیریاں جتاں میریاں ہاراں

میں چنگے کماں وچ رجھی
آپے ڈھاواں، آپ اساراں

اپنی مت نوں مار کے واصف
ہن میں سب دیاں متاں ماراں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و انتخاب و پیشکش : نور خالد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں