216

اندھیروں سےروشنی تک تحریر: سید توقیر حسین عبدالحکیم

کالم:اندھیروں سےروشنی تک
تحریر: سید توقیر حسین
آج کل دیکھنے میں آیا ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو موبائل فونز ٹیبلٹ وغیرہ لے کر دے رہے ہیں۔ گھروں میں ٹی وی لائے جا رہے ہیں۔اگر ان حضرات سے سوال کیا جائے کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ جناب حالات خراب ہیں گھر میں جی لگا رہے گا تو گلیوں میں نہیں گھومیں گے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ گھروں میں اب بچوں کو ایسے کارٹونز وغیرہ دکھائے جاتے ہیں جو بظاہر تو انٹرٹینمنٹ نظر آتے ہیں مگر وہ بہت بڑی تباہی کا زریعہ بھی بن رہے ہیں مثال کے طور پر آپ موٹو پتلو کارٹون کو ہی لے لیں جو آج کل پاکستان میں بھت مقبول ہیں۔ان کارٹونز میں مکمل ہندی زبان اور ہندو طور طریقے سکھائے جاتے ہیں اور نفسیاتی طور پر چھوٹے بچے کسی بھی زبان یا طریقے کو بھت جلد کاپی کرتے ہیں۔ ماں باپ بیچارے بچوں کی روزی روٹی میں اس طرح مصروف ہیں کہ ان کا ان چیزوں کی طرف توجو ہی نہیں ہے۔ لہازا گھروں میں ٹی وی چلائیں مگر اس بات کی مانیٹرنگ کریں کے آپ کے بچے کیا دیکھ رہے ہیں۔ اب دشمن نفسیاتی اور ٹیکنیکلی حملہ کر رہا ہے۔ اپنے بچوں کو ایسے کارٹونز اور پروگرام دکھایں جن سے وہ اپنا پیارا اسلام سیکھیں ۔اخلاق اور ادب سیکھے اس کا فائدہ آپ کو ہی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں