198

گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول تلمبہ سے وابستہ کچھ یادیں ::: کالم نگار ::::صحافی ::::سلیم شاہد کے قلم سے

گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول تلمبہ..میں جانے کا اتفاق ہوا.. لڑکپن کی سنہری یادوں نے گھیر لیا..ٹھنڈی اور گھنی چھاؤں والا برگد کا درخت پوری آ ب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ مسکراتا دکھائی دیا.. آ ج بھی اس کی ٹہنی پر لگا شہد کا بہت بڑا چھتا اس کے حسن میں اضافہ کر رہا تھا.. آ ج بھی سکول کے طلباء کی جائے پناہ اور جائے امان نظر آ یا اس کے نیچے ٹھنڈے پانی کے نلکے سے طلباء منہ لگا کر پانی سے پیاس بجھا رہے تھے. سفیدے کے درخت جو کرکٹ کھیلتے ہوئے دوست لگتے تھے لہرا کر ماضی کی یادوں پر پڑے دبیز پردے اٹھا رہے تھے.. اُس وقت یہی ایک سکول شہر بھر کے لیے اعلیٰ تعلیمی درس گاہ تھی اعلیٰ تعلیم کے حصول کےبعد کئی علیٰ عہدوں پر فائز ہوے..اور ملکی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ..یہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کا واحد گراونڈ تھا.. جس میں ہم جولیوں کے ساتھ کھیل اور جھگڑا ,مذاق اور شرارتیں ساتھ ساتھ چلتی تھیں نہ فکر معاش نہ فکر زمانہ, والدین کی جھڑکیں اور مار بھی اس سکول سے دور نہ کر سکیں.. جگہ جگہ یادیں بکھری نظر آ ئیں.ہم فیلو یاد ائے جو یا تو دنیا چھوڑ گئے یا غمِ روزگار نے انھیں شہر بدر کردیا. پرانے دوست بہت یاد ائے. کرکٹ کے ساتھی ان کے چہرے آ نکھوں میں روشن ہوتے رہے. سب زمانے کی نذر ہو گئے.. سکول کو جی بھر کر دیکھا تفریح کی گھنٹی نے چونکا دیا .. ملک عبدالشکور ڈوگر صاحب سے مزاج أ شنائی ہے..ان کی پرتکلف چائے نے مزہ دوبالا کر دیا اور چوہدری ندیم کھکھ صاحب سے یادیں اور باتیں شئیر کرتا رہا ..والدین جیسا پیار دینے والے عظیم ٹیچرز یاد آ ئے.. محترم شیخ مسعود اختر صاحب سائنس ٹیچر زاہد صاحب, اور کونے والا کمرہ اور ڈیسک پر ساتھ پڑھنے والے کلاس فیلو بہت یاد آ ئے. وقت کی دھول میں سب گم ہوگئے لیکن ذہن میں آ ج بھی تروتازہ ہیں.. طلباء کی شرارتیں دیکھ کر اپنا دور یاد آ رہا تھا.. ماضی کی ورق گردانی نے غمگین کردیا بوجھل دل کے ساتھ سکول کو خدا حافظ کہا.. الللہ تعالیٰ اس ادارے کو قائم دائم رکھے..سلیم شاہد 11اپریل19

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں