223

مہروں کی تکالیف اور کمر درد: اسباب، علامات اور احتیاط : طلحہ راجپوت

انسان کی روز مرہ کی جسمانی مشکلات میں آج کل ایک بڑا مسئلہ کمر درد بنتا جا رہا ہے ۔ تقریبا تین چوتھائی لوگ اپنی عمر کے کسی نہ کسی حصے میں کمر درد کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ کمر درد ممکن ہے کہ تھوڑی مدت کے لیۓ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی مسلسل اس مسئلے کا شکار بن رہا ہو ۔
دور حاضر کی مشینی زندگی اور انسان کی کم تحرکی کمر درد میں مبتلا ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے ۔
کم مدتی کمر درد کا دورانیہ 4 سے 6 ھفتوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ طولانی مدت کی کمر درد اس سے بھی زیادہ عرصے کے لیےرہتی ہے ۔
بعض افراد تمام عمر کے لیۓ بھی اس مسئلے کا شکار ہو سکتے ہیں ۔
کمر درد کے کامیاب علاج اور حل کے لیۓ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ کو کمر درد ہونے کی اصل وجہ کا پتہ ہو ۔
عام دوائیوں کے استعمال سے ہم عارضی طور پر درد سے تو چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں مگر یہ مسئلے کا حل نہیں ہوتا ۔
اصل مسئلہ تو اپنی جگہ موجود ہوتا ہے مگر دوائی اور کیمیکل کے اثرات کی وجہ سے ہم درد کو محسوس نہیں کر رہے ہوتے ہیں ۔
کمر درد کے مریض جب اپنی اس شکایت کے ساتھ کسی بھی قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں تو زیادہ تر ڈاکٹر ایسی دوائیوں کا
استعمال کرواتے ہیں جو درد کو کم کرکے مریض کو عارضی سکون دیتی ہیں ۔
کمر درد کے وجود میں آنے کی متعدد وجوھات ہو سکتی ہیں ۔ ریڑھ کی ہڈی پر جسم کی دوسری ہڈیوں اور ڈھانچے کا دارومدار ہوتا ہے۔
حقیقتاً یہ ایک ہڈی نہیں ہوتی بلکہ ہڈیوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے جس کی لمبائی جوان آدمی میں قریباً 27 انچ ہوتی ہے اور یہ سلسلہ
33 بے قاعدہ ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جو ریڑھ کے مہرے کہلاتے ہیں ان مہروں کے تین حصے ہوتے ہیں۔ پہلا جسم،
دوسرا دو افقی شاخیں اور تیسرا ریڑھ کی شاخ ریڑھ کی ہڈی کا اصلہ حصہ 34 مختلف ہڈیوں سے مل کر بنا ہوتا ہے جو ایک دوسری سے
اس طرح بندی ہیں کہ ان میں لچک پائی جاتی ہے اور ہم اپنی کمر کو آگے پیچھے، جدھر چاہیں موڑ سکتے ہیں ۔ اچھلنے کودنے ، دوڑنے اور
کروٹ لینے میں بھی سہولت رہتی ہے ۔ اس ہڈی کے سلسلہ میں چار خم ہیں جن کے باعث کمر پر بوجھ اٹھانے میں آسانی رہتی ہے ۔
کوئی جھٹکا لگے تو اس کا اثر دماغ تک نہیں پہنچتا ۔ سینے اور پیٹ کے جوف کی وسعت زیادہ ہوجاتی ہے۔ ہر دو مھروں کے درمیان میں
ڈسک موجود ہوتی ہے جس کا کام ریڑھ کی ہڈی میں ایک طرح سے لچک فراہم کرتے ہوۓ مختلف طرح کی ضربات کے اثرات کو
زائل کرنا ہوتا ہے ۔
ریڑھ کی ہڈی کے عقب میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس میں سے حرام مغر عبور کرتا ہے جس سے جسم کے مخلف حصوں کو اعصاب
کی ترسیل ہوتی ہے ۔
کمر کے ارد گرد پٹھوں ، لیگامنٹ اور ٹنڈان کا ایک جامع نظام ہوتا ہے جو ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہوۓ ریڑھ کی ہڈی کو مضبوطی
فراھم کرتے ہیں ۔ یہاں پر خون کی نالیوں سے خوراک کی ترسیل ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا حصوں میں سے اگر کسی میں بھی خرابی پیدا ہو جاۓ تو وہ کمر درد کا باعث بن سکتی ہے ۔ ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود نرم حصوں
میں کوئی کھچاؤ آ سکتا ہے ، چوٹ لگ سکتی ہے لیکن اگر ہڈی ، عصب یا خون کی نالی اس حصے میں متاثر ہو جاۓ تو خطرے کا باعث بن سکتی ہے ۔
اسی طرح ڈسک کے بیرونی حصے میں خرابی کے باعث ڈسک کا داخلی مواد ایک طرف کو پریشر دے سکتا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی
قریبی عصب پر دباؤ پڑنے سے درد اور مختلف طرح کی اعصابی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔
کمر درد کي وجوھات
کمر درد کی مختلف ممکنہ وجوھات کا ہم یہاں مختصر طور پر ذکر کریں گے ۔
٭ طولانی مدت کے لیے کھڑے رہنا
٭ غیر مناسب حالت میں بیٹھنا
٭ بعض ورزشیں کمر درد کا باعث بن جاتی ہیں
٭کسی وزنی چیز کو بلند کرنا
٭غیر مناسب حالت میں جھکنا یا غیر مناسب حالت میں گھومنا
٭ یہ بھی ممکن ہے کہ کمر میں کوئی چھوٹی موٹی خرابی موجود ہے مگر یہ اس وقت سامنے آتی ہے جب اس حصے پر پریشر آ جاۓ ۔
٭ انفکشن، ٹیومر، ہڈی کا ٹوٹنا یا دوسری چوٹیں کمر درد کا باعث بن سکتی ہیں ۔ ایسی حالت میں آرام کرتے ہوۓ بھی درد کا احساس ہوتا ہے ۔
بعض اوقات بخار اور وزن میں کمی بھی اس حالت میں لاحق ہو سکتی ہے ۔
متعلقہ شخص کے لیۓ ضروری ہے کہ فوری طور پر کسی قریبی فیزیوتھراپست یا کسی دوسرے معالج سے رجوع کرے ۔ بعض عام وجوھات
جن میں کمر درر ہو سکتی ہے ہم یہاں ان میں سے کچھ پر بات کرتے ہیں ۔
کھنچاؤ اور ہلکے زخم
یہ حالت اچانک کسی بلندی سےگرنے ، ٹریفک حادثے یا کھیل میں چوٹ لگنے سے پیش آ سکتی ہے ۔ بعض اوقات بہت زیادہ وزنی چیز کو
اٹھانے سے بھی یہ مسئلہ پیش آ سکتا ہے ۔ ایس حالت میں ممکن ہے ریڑھ کی ہڈی کے گرد نرم حصوں میں کھنچاؤ آ جاۓ یا کوئی حصہ معمولی
سا پھٹ جاۓ ۔ ایسا ہونے کے بعد جسم کا مدافعاتی نظام حرکت میں آ جاتا ہے ۔ سوزش کے ساتھ درد کا احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔
نیند سے بیدار ہونے کے بعد جب حرکت کریں تو درد کا احساس شدت اختیار کر جاتا ہے ۔
موٹاپا
ریڑھ کی ہڈی جسمانی وزن کو ایک خاص حد تک تحمل کرتی ہے ۔ اگر انسان کا وزن حد سے زیادہ ہو جاۓ تو اس کا نتیجہ ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ
کی صورت میں نکلتا ہے جس کی وجہ سے ڈھانچے میں ہلکی تبدیلی کا خطرہ ہوتا ہے ۔ موٹاپا ہڈیوں کی اور بہت سی بیماریاں مثلا
اسٹیوپروسس اور جوڑوں میں توڑ پھوڑ کے عمل کی زیادتی کا باعث بھی بنتا ہے ۔
عمر میں زیادتی
بڑھاپے میں ڈسک اور جوڑوں کے اندر موجود مایع حالت میں موجود مادہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے اعصاب
پر پریشر پڑتا ہے جس کے بعد انسان بے حسی اور کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے ۔ بیماری اگر شدت اختیار کر جاۓ تو بڑھاپے میں کمر میں خم
آ جاتا ہے جس کی وجہ سے بوڑھے افراد کو ہمیشہ جھک کر چلنا پڑتا ہے۔
معالج سے کب رجوع کریں ؟
مندرجہ ذیل علامتوں کے ظاہر ہونے پر فوری طور پر اپنے قریبی معالج کے پاس جائیں ۔
٭ ایسا درد جو شدت کے ساتھ زیادہ ہو رہا ہو ۔
٭ ایسا درد جو روز مرہ کے کاموں کو کرنے میں رکاوٹ بن جاۓ ۔
٭کمزوری، بےحسی، جسم کے کسی حصے کا سن ہونا، پیشاب اور پاخانے میں خرابی ۔
کمر درد سے بچنے کے لیۓ احتیاطی تدابیر
وزن بلند کرتے ہوۓ استعداد سے زیادہ وزنی چیز کو مت اٹھائیں حتی ہلکی چیز کو اٹھاتے ہوۓ بھی مناسب طریقے سے اٹھائیں ۔
وزن اٹھاتے ہوۓ مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کریں ۔
٭وزن بلند کرنے سے پہلے اپنے جسم کے پٹھوں کو کچھ وقت کے لیۓ حرکت دیں اور کھینچیں ۔
٭ کوشش کریں کہ تھوڑی بہت وزنی چیزوں کو جلدی میں نہ اٹھائیں ۔
٭ اپنے کندھے سے بلند چیز کو اٹھانے کے لیے سیڑھی کا استعمال کریں ۔
٭ چیز اٹھانے ہوۓ جسم کو اس کے نزدیک کریں ۔ فاصلے سے چیز کو مت اٹھائیں ۔
٭ دونوں پاؤں کا درمیانی فاصلے کندھوں کے فاصلے کے برابر رکھیں ۔
٭ چیز کو زمین پر رکھتے ہوۓ خم ہونے سے پرہیز کریں اس کی بجاۓ بیٹھ جائیں اور پھر چیز کو زمین پر رکھیں ۔
٭ وزنی چیزوں کو جا بہ جا کرتے ہوۓ بہتر ہے کہ کسی قریبی فرد سے مدد لے لیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں