217

لودہراں سادہ لوح افراد کو شادی کا جھانسہ اور سیاسی شخصیات سمیت امراء کو زیادتی کے جھوٹے مقدمات میں بلیک میل کرنے والی خاتون گرفتار : رپوٹ فاطمہ محمد احمر جٹ

میں پھنسا کر بلیک میل کرنے والے گروپ کی سرغنہ ڈی ایس پی صدر لودہراں کے دفتر میں مارکٹائی سے بھرپور ڈرامہ رچانے کے بعد گرفتار کرلی گئ ۔
پولیس ذرائع کے مطابق رحیم یار خان کی رہائشی 22 سالہ دوشیزہ عظمیٰ شہزادی
عرف تحریم فردوس عرف شہزادی
نے کافی عرصہ سے ضلع رحیم یار خان، بہاولپور، ملتان، بہاولنگر، لیاقت پور اور دیگر علاقوں میں مختلف نام اور ولدیت سے خود سے زیادتی اور چھیڑ خانی سمیت مختلف الزامات کے تحت مقدمات درج
کروا کر عام عوام کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کررکھا تھا ۔
ملزمہ نہ صرف جنسی زیادتی کے مقدمات کی جعلی ناموں سے مدعیہ بنتی تھی
بلکہ رحیم یار خان ضلع میں خاص طور پر سادہ لوح افراد کو شادی کا جھانسہ دیکر رقم بٹورنے میں بھی مصروف تھی ۔
خوبرو خاتون نے حال ہی میں سابق ایم پی اے یزمان خالد ججہ سمیت رحیم یار خان کے انجمن تاجران
کے عہدیداروں، صرافہ ایسوسی ایشن کے بڑے ناموں کے خلاف بھی ناجائز مقدمات اور درخواستوں
کی بھرمار کی اور ایک خودساختہ تنظیم
شہزادی ویلفیر سوسائٹی
کے نام سے یتیم بچیوں کے جہیز کے لئے بھی مخیر حضرات سے چندہ جمع کرکے رفو چکر ہوجاتی تھی ۔
اس قسم کی معلومات ملنے کے بعد اور تاجران سمیت مختلف شرفاء کی جانب سے شکایات ملنے کے بعد
مذکورہ خاتون بارے رحیم یارخان پولیس حرکت میں آئی اور بیشتر مقدمات کو خارج کرکے اس خاتون
کی باقاعدہ تلاش کا سلسلہ شروع کردیا گیا سوموار کی صبح
عظمی شہزادی اپنی سوتیلی
والدہ عذرا پروین بیوہ محمدبوٹا
کے ہمراہ اچانک
ڈی ایس پی صدر سرکل لودہراں ضیاء الحق کے دفتر میں دروازے کو دھکا دے کر زبردستی داخل ہوئی
اور آتے ہی دفتر میں موجود
ڈی ایس پی
کو غلیظ گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ تھانہ سٹی لودہراں کے مقدمہ نمبر 658/18 کے ملزمان کیوں گرفتار کیوں نہیں کئے جارہے
ڈی ایس پی
اس اچانک افتاد پر ایک لمحے کیلئے ہکا بکا رہ گئے
پھر خواتین کو بیٹھنے کیلئے کہا اور ایس ایچ او سٹی سے مقدمے بارے معلومات لینے کی بات کی لیکن اسی دوران
عظمیٰ شہزادی جو جینز پینٹ اور شرٹ میں ملبوس تھی
اچانک سے براہ راست ڈی ایس پی پر حملہ آور ہوگئ دفتر میں دیگر افراد جو اپنے مقدمات کے سلسلے
میں انکوائریوں کیلئے موجود تھے انہوں نے اور پولیس ملازمین نے بیچ بچاؤ کی کوشش کرکے معاملہ کنٹرول کیا
اس وارادت پر
ڈی ایس پی
نےفوری طور پر لیڈی پولیس اور تھانہ سٹی کی پولیس کو دفتر طلب کیا
اور خاتون کو گرفتار کرلیا لیکن عظمیٰ نے فوری طور پر اپنے آپ کو بچانے کیلئے اپنا سر ڈی ایس پی کی میز پر دے مارا جس سے اس کی ناک پر معمولی زخم آیا
تاہم پولیس دونوں خواتین کو گرفتار کرکے تھانے لے گئ اور ان کے خلاف پورے جنوبی پنجاب کے مختلف تھانوں میں
درج مقدمات اور دیگر ریکارڈ منگوانے کے بعد ڈی ایس پی دفتر میں حملہ کرنے اور کار سرکار میں مداخلت سمیت دیگر
دفعات کے تحت مقدمہ نمبر 692/18 درج کرلیا ہے پولیس کے مطابق
مذکورہ ملزمہ عظمیٰ کے خلاف ڈی ایس پی انویسٹی گیشن گلگشت ملتان
نے بھی کار سرکار میں مداخلت، بدتمیزی اور دیگر دفعات کے
تحت مقدمہ درج کرایا ہوا ہے ۔
لودہراں پولیس ملزمہ کے سابق ریکارڈ کو سامنے رکھ کر مزید تفتیش بھی کررہی ہے ۔اور مزید انکشافات کا امکان ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں