238

چیف جسٹس آف پاکستان نے صحافی کی تشریح کے لیے ضابطہ اخلاق مانگ لیا کیمرہ مین پرڈیوسر ایڈیٹر بھی صحافیوں میں شامل : مکمل تفصیل جانیں اس رپوٹ میں : رپورٹ طلحہ راجپوت

لفظ صحافی کی تشریح اور صحافیوں پر ضابطہ فوجداری سمیت دیگر قوانین کے اطلاق کا معاملہ
پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنل ایکٹ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست پر سماعت ملتوی
وزارت اطلاعات اور وزارت انسانی حقوق کو نوٹس، ایک ماہ میں جواب جمع کرانے کی ہدائت
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ایف یو جے کے ناصر زیدی کی درخواست پر سماعت کی
بادی النظر میں ایکٹ کی سیکشن 6 کی سب کلاز 3 آئین میں دیےگئےبنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، چیف جسٹس
وزارت انسانی حقوق مطمئن کرے گی کہ ایکٹ کی متعلقہ شق آئین کے آرٹیکل 19 اور آرٹیکل 19 اے سے متصادم نہیں، عدالت
جرنلسٹس کی تعریف میں فوٹو گرافرز،کیمرا مین، پروڈیوسرز اور ایڈیٹرز بھی شامل ہیں، چیف جسٹس
درخواست گزار کے خدشات کو دیکھ کر اس کا حل نکالیں گے، نمائندہ وزارت انسانی حقوق
اگر ضرورت پڑی تو پارلے منٹ میں ترمیم تجویز کی جائے گی، نمائندہ وزارت انسانی حقوق
درخواست گزار اور اٹارنی جنرل کے ساتھ بیٹھ کر آرٹیکل 19 اور 19 اے کے تناظر میں اس کو دیکھیں، چیف جسٹس
جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کی طرف سے سینئر وکلا آفتاب عالم، عمر اعجاز گیلانی اور طارق سمور عدالت میں پیش
سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ و دیگر صحافی رہنما عدالت کے سامنے پیش ہوئے
قانون اس بارے میں مکمل طور پر واضح ہے کہ کون صحافی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ
کیمرامین اور فوٹو گرافرز کا کام رپورٹر سے بھی اہم ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ
ایک تصویر اور وڈیو سے زیادہ موثر کوئی تقریر نہیں ہو سکتی، چیف جسٹس اطہر من اللہ
فریڈم آف رائٹ ٹو انفارمیشن اور فریڈم آف ایکسپریشن صرف میڈیا کا مسئلہ نہیں، جسٹس اطہر من اللہ
جب تک تنقید نہیں ہو گی احتساب نہیں ہو سکتا، چیف جسٹس اطہر من اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں