168

راولپنڈی تھانہ مورگاہ میں قتل معہ اغواء کے مقدمہ کا ڈراپ سین رپوٹ زاھد قیوم

راولپنڈی تھانہ مورگاہ میں قتل معہ اغواء کے مقدمہ کا ڈراپ سین،مقتول اعجاز ولد فقیر محمد سکنہ ضلع استور ڈکیت گینگ کا رکن نکلا۔گینگ کے مزید 06ملزمان کو گرفتار کر کے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار ایس پی پوٹھوہار ڈویژن کیپٹن (ر) دوست محمد نے تھانہ مورگاہ میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔تفصیلات کے مطابق تھانہ مورگاہ میں فقیر محمد کی مدعیت میں مقدمہ نمبر18مورخہ 22-01-19 بجرم 364/302ت پ درج کیا گیا۔جس کے مطابق مقتول اعجاز علی وژن کالج سینٹر راولپنڈی میں ایف ایس سی کا طالب علم تھا اور ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا۔مورخہ 09جنوری 2019کو کالج کے پرنسپل نے بذریعہ فون مقتول کے والد کو اطلاع دی کہ مقتول اعجاز کی نعش گوجر خان سے ملی ہے جسے ہم راولپنڈی لے کر آرہے ہیں ، مقدمہ کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے سی پی او راولپنڈی عباس احسن نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے ایس پی پوٹھوہارڈویژن کو خصوصی ٹاسک دیا ۔ جس پر ایس پی پو ٹھوہار ڈویژن کیپٹن (ر) دوست محمدنے اپنی براہ راست نگرانی میں ایس ڈی پی او سول لائن ، ایس ایچ او مورگاہ یاسر عباس اور دیگر ملازمان پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی ۔ ٹیم نے مورخہ 06مارچ 2019کو 06ملزمان کو گرفتار کیا جن میں علی حق نواز ،حق نواز ،مدثر طارق ، نور علی شاہ ،آفتاب اور عطاء سلطان شامل ہیں۔ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ مقتول اعجاز علی ان کے ڈکیت گینگ کا رکن تھا ، اور وہ گوجر خان و گردونواح میں ڈکیتی کی وارداتیں کرتے ہیں ، مورخہ 07-01-19کو مقتول اعجاز علی ہمراہ نور علی شاہ وغیرہ نے چکوال روڈ گوجر خان ٹرک کو روک کر گن پوائنٹ پر نقدی 1950روپے چھینیے اس کے بعد ایک اور ٹرک روکا مقتول اعجاز علی ٹرک کی بائیں سائیڈ پر لٹک گیا جبکہ علی حق نواز نے ٹرک کو گن پوائنٹ پر روکنے کی کوشش کی، ڈرائیور نے ٹرک بھگا دیا مقتول اعجاز اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور اسی ٹرک کے ٹائروں کے نیچے آکر موقع پر مر گیا ۔ اور ہم لوگ وہا ں سے بھاگ گئے ۔ ملزمان نے 10مزید وارداتوں میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے ۔ملزمان سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ04پستول،01رائفل،18روند، ماسک اور رسی بھی برآمد کرلی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں