154

پاکستان ارمی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے مسائل ان کے ڈیوٹی اور ہماری سوچ :بیورو چیف اصف علی خان

ارمی جوانوں کی زندگی
گھر والوں کے خواب

ضلع خانیوال عبدالحکیم کینٹ
صبح صبح اپنے بیٹے علی عباس خان اور بیٹی فاطمہ اصف خان کے ساتھ سکول جاتے ھوے

(جب سے پاکستان نے انڈیا کا طیارہ مار گرایا ھے)

کے رویہ میں واضع تبدیلی دیکھ رھا تھا
جیسے ھی وہ تلمبہ روڈ عبدالحکیم کینٹ
گیٹ نمبر 1 کے سامنے پہنچتے تو
ب اختیار ان دنوں کے ہاتھ گیٹ پر ڈیوٹی کرتے فوجی جوانوں کے سیلوٹ کے لیے اٹھ جاتے رھے
میں اپنے بچپن سے جوانی اور جوانی سے ادھیڑ عمری تک ظاہری باطنی سیلوٹ کرتا آیا ھوں ہر اس نوجوان کو جس نے بھی خاکی وردی پہنی ھوئی ھو
میرے سکول ٹائم میں جب فوجی جوان نہر پر پل بنانے کی ٹرینگ کرنے جاتے تھے
خواتین ان کے لیے( لسی گڑ پراٹھا )لیکر جاتی تھیں گاوں کے مرد فوجیوں کو عقیدت کی نظر سے دیکھتے
اور بوڑھی خواتین فوجیوں کے ماتھے پر بوسہ لیتی تھی

میری بیٹی فاطمہ نے مجھے بتایا پاپا جی اگر ہم انڈیا کی جنگ سے بچے ھوے ھیں
اور جنگ نہیں ھوئی تو اس کے پیچھے پاک فوج ھے
مجھے حیرت ھوئی اور میں نے پوچھا بیٹا آپ کو یہ سب بتائیں کون بتاتا ھے
تو فاطمہ نے مجھے حیرت زدہ کرتے ھوے کہا کہ وطن پاکستان کا ہر شہری پاکستان اور پاکستان آرمی سے اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کرتا ھے
اور یہ بات ہمارے سکول میں ہی ہمیں سکھائی گئ ھے
باتیں کرتے ھوے
فاطمہ کے سوالوں نے میری زبان بند کر دی
پاپا جو فوجی جوان شہید ھو جاتے ھیں ان کے بچوں کا کیا بنتا ھے
پاپا جو فوجی کینٹ میں ڈیوٹی کرتے ھیں ان کے بچوں کو سکول کون لے کے آتا جاتا ھے
پاپا جن بچوں کے پاپا ڈیوٹی پر ھوتے ھیں ان بچوں کی فرمائشیں کون پوری کرتا ھے

پاپا آپ تو روزانہ دادی اماں کو ملتے ھو کیا ان فوجیوں کی ماں نہیں ھوتی
کیا ان کو ماں کی یاد نہیں آتی
پاپا ہم تو سکول میں سب بچوں کو بتاتے ھیں کہ میرے پاپا ہمیں لینے آئیں گے
فوجیوں کے بچے سکول میں اپنے پاپا کے بارے میں کیا کہتے ھوں گے

پاپا ان فوجیوں کا کوئی گھر نہیں ھوتا یہ فوجی عید پر گھر کیوں نہیں جاتے
پاپا ان کو اتوار والے دن بھی چھٹی نہیں ھوتی

فاطمہ کی باتوں کا جواب دینے سے پہلے فاطمہ کا TPS سکول آگیا
واپسی پر چشم تصور نے فوجی جوانوں کی ڈیوٹی کرنے کی منظر کشی کی
جس میں فوجی جوانوں کی انتہائی سخت ٹرینگ سے لیکر نائٹ پاس تک
ایک یونٹ سے دوسرے یونٹ ٹرانسفر تک
یونٹ میں کھانا پکانے سے کپڑے دھونے تک اور بہت ساری باتیں جو آف دی ریکارڈ ھیں دماغ میں گھوم گئی
جو زیر قلم نہیں آسکتی
شہدا کے خاندانوں اور غازیوں کے گھر والوں کے خواب کیسے پورے ھوتے ھیں اللہ پاک بہتر جانتا ھے
پاکستان کے ہر جوان کو جس کے جسم پر ملکی سلامتی والے اداروں کی وردی ھے ان کو سلام

03008397902
ان نیوز ٹی وی چینل
بیورو چیف خانیوال
آصف علی خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں