289

کسان کی آواز ۔ ستمبر تک چاول کی مونجی کا ریٹ 2700 روپے فی من تھا لیکن چاول کی فصل چونکہ اکتوبر میں اترتی ھے تو آج چاول کی مونجی کا ریٹ 2200 روپے فی من آچکا ھے : بیورو چیف اصف علی خان

کسان کی آواز ۔
ستمبر تک چاول کی مونجی کا ریٹ 2700 روپے فی من تھا لیکن چاول کی فصل چونکہ اکتوبر میں اترتی ھے تو آج چاول کی مونجی کا ریٹ 2200 روپے فی من آچکا ھے

حکومت پنجاب کو ضلعی انتظامیہ کو تیل میں بھگو کر ڈنڈا دینا چاہیے تاکہ کسان کے ساتھ ھونے والے احتصال کو روکا جاسکے ۔

حکومت چاول کی مونجی کا کم از کم ریٹ 3000 روپے فی من فکس کرے کیونکہ مارکیٹ میں چاول 120 ~140 روپے فی کلو فروخت ھوتا ھے اور اس کی صفائی اور پالیس کے فیکٹری کے دس روپے فی کلو خرچ ھوتے ھیں لیکن کسان سے اس کے باوجود باون روپے کلو بھی خرید نہیں کیا جارھا ۔

پورے یورپ میں گزشتہ دو سال سے انڈیا کے چاول کو دھتکارا جاچکا ھے کیونکہ انڈیا میں چاول کی استعمال ھونے والی پالیش کا کیمیکل انسانی صحت کے لئے زہر کے طور پر ثابت ھوا ھے جس کی وجہ سے یورپی منڈی میں پاکستانی چاول کی بے پناہ مانگ ھے اور وہاں پاکستانی چاول 200 روپے فی کلو تک فروخت ھوتا ھے ۔ یورپ کی منڈیوں میں پاکستانی چاول کی مانگ کے باوجود کسان سے احتصال کہاں کی عقلمندی ھے ۔

حکومت کو تاجروں کو پابند کرنا چاہیے کہ وہ کسان سے کم از کم 75 روپے فی کلو مونجی خرید کریں اور ضلعی انتظامیہ کو سختی سے اس پر عملدارمد کرا نے کا پابند کریں ۔

نوٹ ! کسان ھمارے ملک کی شان ھیں ان کی آواز بنیں ۔ اس پوسٹ کو شئیر کریں یا اپنے نام سے پوسٹ کریں لیکن تمام دستوں سے التماس ھے اس کسان کی آواز کو بلند ضرور کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں