330

ضلع خانیوال عبدالحکیم: مٹی نہ پھرول فریدا یار گواچے نئیں لبدے “آہ “محمدسعید بٹ .. 9 ستمبر کو 50 برس کی عمر میں داغ مفارقت دینے والے بٹ برادری کے فرزند سعید احمد بٹ کو ہم سے بچھڑے 65 دن بیت گئے لیکن ابھی بھی موت کا یقین نہیں آتا ہے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اور خوبصورت لباس میں ملبوس سامنے آنا والا ہے۔ تحریر شکیل سعیدی

مٹی نہ پھرول فریدا
یار گواچے نئیں لبدے
“آہ “محمدسعید بٹ …………….

9 ستمبر کو 50 برس کی عمر میں داغ مفارقت دینے والے بٹ برادری کے فرزند سعید احمد بٹ کو ہم سے بچھڑے 65 دن بیت گئے لیکن ابھی بھی موت کا یقین نہیں آتا ہے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اور خوبصورت لباس میں ملبوس سامنے آنا والا ہے۔
محمد سعید بٹ
جب اور جہاں ملتا تو اپنی محبتوں سے دل موہ لیتا ۔۔۔۔کبھی کبھی نمکین جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا تو اس میں بھی احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتا حالانکہ عمر میں بڑے تھے دوست کی بجائے چھوٹا منہ بولا بھائی کا رشتہ قرار دیتے ۔
محمد سعیدبٹ ایک زندہ دل انسان تھا کبھی کسی غم اور تکلیف میں اسے مرجھایا ہوا نہیں دیکھا ۔۔۔۔مسکراتا چہرہ ،روشن آنکھیں ۔۔۔دل موہ لینے والی گفتگو ۔۔۔پیار سے ملنے کا انداز ۔۔۔۔کبھی زیر لب مسکراہٹ اور کبھی بھر پور قہقہ لگاتا ہوا ۔۔۔۔مجھ سے جب بھی ملتا تو اور کسی کا ذکر کرتا یا نہ کرتا مگر اپنے بڑے بھائی حاجی اشرف بٹ کی تعریفیں ضرور کرتا اور کبھی اپنے اس سے چھوٹے بڑے بھائی محمد ارشد بٹ کی تعریفیں کرتا اور اکثر کہتا تھا کہ ہمارے خاندان میں محمدارشدبٹ اللہ کا ولی ہے
محمدسعید بٹ دوستوں کا دوست تھا ۔۔۔۔۔۔۔اس کی رفاقت میں انسان کبھی بور نہیں ہوتا تھا ۔۔۔
اس شخصیت کو اگر چند الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ ایک خوش مزاج، خوب صورت گفتار،خوش لباس اور مجسم محبت انسان تھا
سعید بٹ اگر جو ٹھہر جاتے تو کوئی تدبیر کرلیتے۔۔۔۔۔۔ہائے سعید ابھی تو بڑی بیٹی کو ڈاکٹر بننے میں دو سال پڑیں ہیں ۔ اور ابھی تو بیٹے سعد بٹ کو بھی وکیل بننے میں وقت پڑا ہے چھوٹے احمد کو حافظ بنانا ہے اور اعلی تعلیم دلوانا تھی ۔۔۔ابھی تو اپنی اور خاندان کی بیٹیوں کو اپنی دعاوں تلے رخصت کرنا تھا آپ خاندانِ مرحوم فتح محمد بٹ میں کم عمر تھے لیکن فہم فراست کےلحاظ سے بزرگ کا درجہ رکھتے آپ جیسی صفات کسی میں نہیں سعید بٹ عبدالحکیم کی صحافت کا درخشاں ستارہ تھا سعید بٹ نے صحافت میں اپنا لوہا منوایا سعید بٹ ہمیشہ کہتا تھا کہ جو مزہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے ہے وہ اور کسی کام میں نہیں سعید بٹ بطور رپورٹر خبریں شہر کے کئی مظلوموں کی آواز بنااور انہیں انصاف دلوایا
سعید بٹ دوستوں مان تھا اس کے قریبی دوستوں میں حامد عزمی عبدالمعنم چوہدری ۔ممشاد قاضی۔
بابا منشاء الرحمن ۔دلشاد چوہدری ۔طاہر باو ۔جان شہزاد ۔رانا ناصر احمد خان اور جھوٹا سگا بھائی شفیق بٹ جسے وہ دوست سمجھتا تھا ودیگر اور مجھ سمیت سب دوستوں پر جان نچھاور کرتا تھا اور مشکل وقت پر دوستوں کیساتھ آپ نے اچھا کردار ادا کیا
لیکن نوحہ پرسہ کس کو دو
اجڑتی جاتی ھے چوپال اور نہیں معلوم
کہاں گئے جو یہاں داستاں سناتے تھے۔۔۔۔
معروف شاعر ڈاکٹر بیدل حیدری کا نوحہ ہے
” کس قدر سادہ و معصوم نظر آتا تھا
چاند لکھوں کہ تجھے چاند کا ٹکرا لکھوں
تیرے معصوم تبسم سے سحر ہوتی تھی
اپنے قصبے کا تجھے کیوں نہ اجالا لکھوں
تو کہ تھا پورے علاقے کا ابھرتا سورج
اب کوئی تجھ سا نظر آئے تو تجھ سا لکھوں
میں نے دیکھا ہے تجھے خون کے طوفانوں میں
یہ غلط ہے ،تجھے پیاسا ،سر صحرا لکھوں

اے خدا ایسی اجل اب نہ کسی کو آئے
آج کے بعد کسی کا بھی نہ نوحہ لکھوں
مرنے والا میرا بیٹا تو نہیں تھا بیدل
دل یہ کہتا ہے مگر اپنا ہی بیٹا لکھوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں