155

میاں چنوں :::: ڈی ایس پی آفس میاں چنوں پنچائت گاہ میں تبدیل ڈی ایس پی میاں چنوں اختیارات سے تجاوز کرنے لگا :::: رپوٹ اشفاق نیاز

محسن وال (نامہ نگار)
ڈی ایس پی آفس میاں چنوں پنچائت گاہ میں تبدیل ڈی ایس پی میاں چنوں اختیارات سے تجاوز کرنے لگا

پولیس آرڈر 2002کی خلاف ورزی جاری پورے سرکل میں درج ہونے والے مقدمات کی مثلیں منگوا کر خود تفتیش کرنے لگا قتل اور دیگر سنگین جرائم میں لاکھوں روپے بطور رشوت وصول کئے جانے لگے اکثر مقدمات میں برسر اقتدار سیاسی جماعت کے نمائندوں کو پنچائتی اور ثالث مقرر کرکے شہریوں کے حقوق کے ساتھ کھلواڑ کیا جانے لگا پولیس کے اعلی افسران خاموش تماشائی بن گئے تفصیل کے مطابق ڈی ایس پی میاں چنوں کا آفس پنچائت گاہ میں تبدیل ڈی ایس پی میاں چنوں مہر ناصر علی ثاقب اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے پولیس آرڈر2002کی خلاف ورزی کرکے پورے سرکل میں درج ہونے والے مقدمات کی تفتیش خود کرنے لگا سائیلین ساراسارا دن ڈی ایس پی میاں چنوں کے دفتر کے سامنے بیٹھنے پر مجبور ڈی ایس پی دفتر کے سامنے سائیلین کے بیٹھنے کے لئے نہ تو سائے کا انتظام ہے اور نہ ہی پینے کے پانی کا تفتیشی افسران مقدمات کی مثلیں ڈی ایس پی کو پیش کرنے کے لئے ڈی ایس پی دفتر میں موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے میاں چنوں سرکل کے چاروں تھانوں کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈی ایس پی میاں چنوں کا آفس ٹاؤٹوں اور برسراقتدار سیاسی جماعت کے نمائندوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ڈی ایس پی میاں چنوں پولیس کے نظام میں تبدیلی کی دعوے دار سیاسی جماعت کے نمائندوں کو ہی ثالث اور پنچائتی مقرر کردیتا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کے حقوق کے ساتھ کھلواڑ ہورہا ہے اس سلسلہ میں جب مقدمات کی تفتیش کے حوالے سے متعدد وکلاء اور قانون سے شناسائی رکھنے والے افراد سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پولیس آرڈر2002میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ ڈی ایس پی مقدمات کی تفتیش کرے اور فریقین کو سنے ڈی ایس پی کا کام صرف ڈاکیے کا ہے اورتحصیل میں اس کی سپر ویثرن ہوتی ہے قابل ذکر بات یہ ہے کہ قتل اغوا زیادتی بدفعلی اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم میں تفتیش کے دوران ڈی ایس پی میاں چنوں اپنے مخصوص ٹاؤٹوں کے ذریعے لاکھوں روپے نذرانہ وصول کرتا ہے ،لیکن پولیس کے اعلی افسران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں شہریوں آغاماجد ،ارشاد چوہدری ،زاہد سندھو ،عبدالطیف ،ابرار حسین ،عاشق بھٹی ،نوید چوہدری محمد صابر ودیگر نے وزیراعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے 

محسن وال (نامہ نگار ) محکمہ زراعت میاں چنوں کے انسپکٹرز اور فیلڈ اسسٹنٹس کا سروس سٹریکچر نہ بنائے جانے اور ٹی اے ڈی اے کی عدم ادائیگی پر احتجاج اور کام چھوڑ ہڑتال دوسرے روز بھی جاری تفصیل کے مطابق محکمہ زراعت میاں چنوں کے ملازمین نے اپنے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اور کام چھوڑ ہڑتال کی ملازمین کے مطابق جب تک ہمارے جائز مطالبات پورے نہیں ہوتے ہماری ہڑتال جاری رہے گی ہمیں سروس اسٹریکچر اور ٹی اے ڈی اے دیا جائے  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں