146

انے والے دو سالوں میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ سے 90فیصد پاکستانیوں کی واپسی متوقع وزرات خارجہ مسائل حل کروانے کی بجاے مٹی پاو پالیسی پر گامزن : بیور چیف اصف علی

بھائیو ملک سے باھر جانا مشکل ھے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ مشکل ھمیشہ کےلئے واپس لوٹنا ھے۔

مڈل ایسٹ میں کام کرنے والوں کے #پاکستان میں مقیم اھل خانہ جس معیار زندگی کے عادی ھو جاتے ھیں، انہیں لگتا ھے کہ کمانے والا واپس آ گیا تو موجودہ معیار زندگی برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔ اور یوں ایک دن مڈل ایسٹ سے میت لوٹتی ھے

ویسٹرن ممالک میں جانے والوں کو وھاں کی شہریت مل جاتی ھے۔ اولاد وہیں پیدا ھوتی اور بڑی ھوتی ھے۔ یہ بچے واپس پاکستان نہیں آنا چاھتے۔ آدمی جب دادا دادی بن جاے تو وھاں تنہائی محسوس کرنے لگتا ھے۔ وہ اب واپس لوٹنا چاھتا ھے۔ لیکن پاکستان میں ان بوڑھوں کےلئے چاھتیں دم توڑ چکی ھوتی ھیں۔ ادھر پوتے پوتیوں کی محبت اس کی کمزوری بن چکی ھوتی ھے۔ یوں ایک دن دل میں وطن کا درد لیئے آدمی اس جہاں سدھار جاتا ھے۔ اس کی میت بھی انہیں مغربی ممالک میں دفنا دی جاتی ھے کیونکہ پاکستان میں اب تک ان کا اپنا کوئ رونے والا بھی نہیں ھوتا۔

بھائیو پاکستان میں اپنا کاروبار ھی نہیں، سو فیصد ایمانداری والا کام کرو۔ سچ بولو، ملاوٹ نہ کرو، لوٹایا جانے والا مال واپس لے لو اور خوش اخلاقی سے بات کرو۔ دیکھنا ایک دن ھمارا پیارا ملک، ہاں یہی پاکستان ایک دن دبئ، امریکہ اور آسٹریلیا بن جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں