132

*دو سو خرچو، ہزار روپے کے جرمانے سے بچو اور جان بچاو, اہم علان:: رپورٹ حامد علی*

*دو سو خرچو، ہزار روپے کے جرمانے سے بچو اور جان بچاو, اہم علان:: رپورٹ حامد علی*

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں کھانے کی جگہوں کے بعد جو چیز بہت زیادہ نظر آتی ہے وہ غالباٌ موٹر سائیکل ہے۔ان پر پورا پورا خاندان بھی سوار نظر آئے تو کوئی حیرانگی کی بات نہیں۔ تاہم ان میں زیادہ تر نے حفاظتی ہیلمٹ نہیں پہنے ہوتے۔
ہڈیوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر اشرف نظامی نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور میں ہونے والے حادثات میں زخمی جب ہسپتالوں میں لائے جاتے ہیں ان میں 80 فیصد سے زائد میں موٹر سائیکل سوار شامل ہوتے ہیں۔

موٹر سائیکل سواروں کے لیے سڑکوں کو محفوظ بنانے کے غرض سے لاہور پولیس نے ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے حال ہی میں ہیلمٹ نہ استعمال کرنے والوں پر جرمانہ 200 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
گذشتہ چند روز سے نئے ضوابط کے اطلاق کی تیاری کے سلسلے میں ٹریفک پولیس نے بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کرنے والوں کے چالان کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
ایسے میں ہیلمٹ کی مانگ بڑھ گئی ہے اور ساتھ ہی اس کی قیمت بھی۔ موٹر سائیکل سواروں کا گلہ ہے کہ تاجر کئی گنا قیمت پر ہیلمٹ بیچ رہے ہیں۔

جو ہیلمٹ پہلے 800 روپے کا ملتا تھا اس کی قیمت اب 1600 سے کم نہیں۔
لاہور کے میکلیوڈ روڈ پر واقع موٹر سائیکلوں کے بازار میں ہیلمٹ فروش اعجاز احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہیلمٹ کی قیمت گذشتہ چند روز میں کئی گنا بڑھ گئی ہے تاہم وہ اس کا ذمہ دار ہیلمٹ بنانے والی کمپنیوں کو ٹھہراتے ہیں۔’ہیلمٹ بنانے والوں کو اب پتہ چل گیا ہے کہ لاہور میں ہیلمٹ لازمی ہو گیا ہے تو انہوں نے اس کی قیمت بڑھا
ان کا کہنا تھا کہ اس سے ان کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ 800 روپے والا ہیلمٹ اب انہیں 1500 روپے میں پڑتا ہے جسے وہ 1600 میں فروخت کر کے صرف 100 روپے کا منافع کما رہے ہیں۔
اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے عاشق حسین جیسے تاجر بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔ اسی شاہراہ پر وہ پیلے رنگ کے فیکٹری مزدوروں کے لیے بنے ہیلمٹ لہراتے بولی لگاتے نظر آئیں گے، ’دو سو خرچو، ہزار روپے سے بچو۔‘
وہ یہ ہیلمٹ محض 150 سے 200 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔ اس ساخت کے ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کے لیے موزوں نہیں تاہم وہ انہیں فی الوقت چالان سے بچا رہے ہیں۔عاشق حسین کو اس بات کا ادراک ہے کہ ان کے ہیلمٹ حادثے کی صورت میں موٹر سائیکل سوار کو بچا نہیں سکتا مگر ان کی اپنی منطق ہے۔
’جو اصلی ہیلمٹ ہے وہ سات سے آٹھ ہزار میں ملتا ہے، وہ تو یہ غریب عوام خریدنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔‘مگر پیسے کیا جان سے زیادہ قیمتی ہو سکتے ہیں؟ان کا ماننا ہے کہ ’ہیلمٹ صرف رسمی ہے اور غریب عوام کے لیے 1000 روپے جرمانہ برداشت کرنا بہت مشکل ہے
لہٰذا ان کا غیر موزوں ہیلمٹ بیچنا جائز ہے۔ پولیس کے مطابق اس نمونے کا ہیلمٹ ممنوع ہے تاہم ابتدائی مرحلے میں اس کا استعمال کرنے والوں کو تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ عاشق حسین کے ’جگاڑ‘ کے زیادہ خریدار نہیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ ہیلمٹ کے کاروبار کو مافیا میں تبدیل کرنے والوں کی موجودگی میں پولیس لاہور کے موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ پہنانے میں کس حد تک کامیاب ہو پاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں