149

پاکستان تحریک انصاف کی تعلیمی ایمرجنسی، کرپشن کا خاتمہ اور میرٹ کی پاسداری کے دھرے رہ گئے

پاکستان تحریک انصاف کے تعلیمی ایمرجنسی، کرپشن کا خاتمہ اور میرٹ کی پاسداری کے بڑے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ رپوٹ کراچی وسیلہ ٹیم
پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ کے بعد خیبر پختون خواہ کے دو بڑے تعلیمی اداروں میں وزیر اعلی محمود خان کی اقربا پروری کی خاطر ان اداروں میں غیر ضروری مداخلت زور وشور پر ہے۔ ہائی کورٹ پشاور ڈبل بینچ کے فیصلے میں واضح طور پر نااہل قرار دیئے جانے والے دو بھائی ڈاکٹر افتخاراور ڈاکٹر حبیب کو تغمہ امتیاز دلانے سمیت مدت ملازمت میں بھی توسیع کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ دونوں بھائی پہلے بھی میٹرک تا بی ایس سی تھرڈ ڈویژن ڈگریوں کے حامل غیر قانونی طریقے سے وائس چانسلرز تعینات کئے گئے تھے۔ یاد رہے دونوں بھائی وزیر اعلی خیبر پختون خواہ کے قریبی رشتہ دار اور سوات مٹہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ صوبائی گورنمنٹ میں اثرورسوخ رکھنے والے ان دونوں بھائیوں کی کرپشن اور غیرقانونی بھرتیوں سمیت تمام انکوائریاں بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسلامیہ کالج پشاور پاکستان کے مایہ ناز تعلیمی اداروں میں اپنا نام رکھتا ہے۔ جس میں آنے والے سٹوڈنٹس کو بھی ایڈمیشن ایف اے، ایف ایس سی %80 پر دیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی اور اقربا پروری سے اس بڑے تعلیمی ادارے کا وائس چانسلر ڈاکٹر حبیب ازدخود میٹرک تا بی ایس سی تھرڈ ڈویژن ہے۔
2016جولائی27 کو اس وقت کے صوبائی وزیر محمود خان نے سابقہ سی ایم پرویز خٹک سے مل کر سکروٹنی کمیٹی میں 51ون اور36 ویں نمبر پر آنے والےدونوں بھائیوں ڈاکٹر حبیب اور ڈاکٹر افتخار کو شارٹ لسٹ کروا کر دو اہم ترین بڑے تعلیمی اداروں میں وائس چانسلر تعینات کئے۔ اور سکروٹنی کمیٹی کرنے والے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن کے ایس او اختر علی اس وقت ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے ملازم تھے اور اس وقت ڈاکٹر حبیب ھزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے عارضی وائس چانسلر تعینات تھے انہوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اختر علی کو پہلے ہی سے ہائیرایجوکیشن میں ڈیپوٹیشن پر بھیج دیا گیا۔ جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سکروٹنی کے دوران سینئرز پروفیسرز کی فائلز ہی غائب کر دی گئی۔ جبکہ اس وقت کے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے گورنر خیبر پختون خواہ نے ان دونوں بھائیوں کی سمری انکے ایکڈیمک ریکارڈ درست نہ ہونے کی وجہ سے واپس کی لیکن اس کے باوجود سی ایم خیبر پختون خواہ پرویز خٹک نے ان کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔ اس کے بعد بھی اسلامیہ کالج کے سینئرز پروفیسر ڈاکٹر یاسین نے سلیکشن کمیٹی کی اختیارات سے تجاوز اور ڈاکٹر حبیب کی غیرقانونی تعیناتی پر ہائی کورٹ پشاور ڈبل بینچ میں رٹ نمبر 2016/ W.P.No 4525.P کے تحت کیس دائر کیا تھا۔ جس پر اس وقت کے سینئیر جسٹس وقار سیٹھ نے کیس کی سماعت مکمل ہونے پر پندرہ پیجز پر مشتمل تفصیلی فیصلہ لکھا۔ جس میں صوبائی حکومت پی ٹی آئی سے ڈاکٹر حبیب کو فلفور فارغ کرنے اور سلیکشن کمیٹی کے ممبران کو بھی واکرنےاور میرٹ کی پاسداری کرنے کے احکامات جاری کئے۔ لیکن ڈاکٹر حبیب کو ہٹانے کے بجائے سی ایم خیبر پختون خواہ نے اقربا پروری کی مثال قائم کرتے ہوئے دوبارہ غیرقانونی طور پر مدت ملازمت میں مزید توسیع دینے کا حکم دے دیا. یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی جب ڈاکٹر حبیب ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں تھے تو انکے ایکڈیمک ریکارڈ سے ہٹ کر انکی تقرری اور پروفیسر کی پرموشن کے خلاف بھی ایڈوکیٹ قاضی اظہر نے بھی کیس رٹ نمبر 249A/2007 کررکھا تھا جس پر پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد ڈبل بینچ نے 2013 میں فیصلہ سناتے ہوئے ان کو فارغ کرنے کا حکم دے دیا جبکہ یہ سپریم کورٹ اپیل میں چلے گئے اور بعدازاں سپریم کورٹ نے بھی ان کے خلاف فیصلہ سنایا اور اسی فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا تھا لیکن بدقسمتی سے بڑے بڑے دعوے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی ان بااثر افراد کے سامنے بےبس تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور آج تک ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا. 08/05/2018 کو ایف آئی اے پشاور نے بھی لیٹر نمبر FIA/KP/E.14/2018/582 کے مطابق ڈاکٹر حبیب کی تمام غیرقانونی بھرتیوں، پرموشن اور تعمیراتی پراجیکٹ میں کرپشن کا سارا ریکارڈ طلب کیا لیکن لے دے کر کے معاملات کو دبا دیا گیا۔ اسی طرح ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تعینات دوسرے بھائی ڈاکٹر افتخار نے بھی غیرقانونی بھرتیوں اور تعمیراتی کام کے نام پرکرپشن کابازار گرم کر رکھا ہے کرپشن اور غیرقانونی بھرتیوں کے لئے ایک کمپیوٹر آپریٹر غلام علی کو ڈائریکٹر فنانس 20 گریڈ اور فیکلٹی ممبر ضیاءالرحمن کو رجسٹرار تعینات کر رکھا ہے۔ سابقہ پراجیکٹ ڈائریکٹر غفور بیگ نے اپنے دور اقتدار میں یونیورسٹی بلاک کے لئے پراجیکٹ نمبر 16/462/1400 پر 23 کروڑ کی لاگت سے منظوری دی جس کو بعدازاں اس شخص نے بغیر کسی بجٹ اور اپروول کے غیر قانونی سے 23 کروڑ کو بڑھا کر 33 کروڑ کر دیا۔ غیر قانونی طریقے سے بھرتیوں، تعمیراتی فنڈز میں خردبرد اور میرٹ سے ہٹ کر تعینات شخص کے خلاف ہائیر ایجوکیشن اور گورنر خیبر پختون خواہ کی طرف سے کئی بار برائے نام انکوائریاں مقرر کی جا چکی ہیں لیکن دوسرے بھائی کی طرح ڈاکٹر افتخار کے معاملات کو بھی دبا دیا جاتا ہے۔ ظلم کی انتہا یہ بھی ہے کہ اس کرپٹ اور نااہل شخص کا نام سی ایم خیبر پختون خواہ کے کہنے پر تغمہ امتیاز کے لئے بھی ڈال دیا گیا ہے۔ اور دونوں بھائیوں کو نوازنے کے لئے سی ایم خیبر پختون خواہ نے صوبے کی 8 بڑی یونیورسٹیوں کے نئے وائس چانسلرز کی تعیناتی کے اشتہار کو بھی روک لیا ہے تاکہ ان دونوں بھائیوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی جاسکے ۔ یاد رہے یہ دونوں بھائی سوات مٹہ سے تعلق رکھنے والے سی ایم کے پڑوسی اور قریبی رشتہ دار بھی ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ اور میرٹ کی پاسداری کے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے وہ اب اس اقربا پروری اور نااہل شخصیات کو نوازنے والے وزراء کے خلاف کوئی ایکشن لیتے ہیں یا پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ کی طرح اس معاملے کو بھی رفع دفع کر دیا جائے گا.
اسی طرح پرویز خٹک نے سکوٹر کو بھی ۲۹ نمبر پہ ہونے کے باوجود گومل یونیورسٹی کو برباد کرنے کے لیے بھیج دیا …

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں