92

تھانہ تلمبہ کی حدود میں 6 سالہ معصوم عثمان جنسی زیادتی کے بعد قتل پولیس کی ڈنگ ٹپاو پالیسی لواحقین کی انکھوں سے لہو رس رھا ھے قاتل زمین کھا گئی یا آسمان

ضلع خانیوال تھانہ تلمبہ
عثمان قتل کیس
نااہل ترین ایس ایچ او تلمبہ ظفر سیال صاحب

بنام ڈی پی او خانیوال
بنام ڈپٹی کمشنر خانیوال
پاکستان ایسا ملک ھے جہاں کچھ بھی ھونا
ممکنات میں شامل ھے سانحہ یا حادثہ ھو جانا کوئی بڑی بات نہیں مگر اس کے بعد اداروں کا ردعمل انصاف کا حصول بڑی بات ھے
تھانہ تلمبہ میں جب معصوم عثمان کے قتل کی خبر بریک ھوئی تو ضلع خانیوال کے دو بڑے عہدے دار ڈپٹی کمشنر خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی صاحب اور ڈی پی او خانیوال فوری طور پر موقع پر تشریف لاے اور سارا موقع خود دیکھا صاف ظاہر ھے دونوں افسروں نے متعلقہ زمہ داران کو اس کیس پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایات کی ھو گی اور ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کا ٹاسک دیا ھو گا

قارئین اپکے علم میں نہیں ھو گا مگر تھانہ اور باقی تمام شہر پر کئی ادارے بیک وقت نظر رکھے ھوے ھوتے ھیں جن میں تھانہ کے سیکورٹی افسر سپشل برانچ کے افیسر اور باقی کئی حساس اداروں کے لوگ معمالات دیکھ رھے ھوتے ھیں ایسے کیسوں میں یہ تمام ادارے متعلقہ تھانہ کو سپوٹ کر رھے ھوتے ھیں اتنے سارے سپوٹنگ اداروں کے باوجود بھی ایس ایچ او تلمبہ ابھی تک عثمان قتل کیس میں صفر رزلٹ دے چکے ھیں

ایس ایچ او تلمبہ کے بارے میں ابھی تک جتنی بھی میڈیا رپوٹس ھیں ان میں انکی کارکردگی صفر ھے عثمان قتل کیس ڈی این اے میں بھی ایس ایچ او تلمبہ کی نااہلی کھل کر سامنے ائی جب یہ درجنوں لوگوں کو لاہور ڈی این اے کے لے گئے اور وہاں صرف 6 لوگوں کا ڈی این ھی ھو سکا باقی لوگوں کو جی بھر کے وہاں ذلیل کیا گیا اگر وہ لوگ ب گناہ ھیں تو انہیں کس جرم کی سزا ملی مہر ظفر سیال ایس ایچ او تلمبہ کا پبلک ریشن بھی نہایت تھکا ھوا ھے سائلوں سے بدتمیزی سائلوں سے رشوت شفارش کے بغیر کام نا کرنا ماتحت عملے کو رشوت کرپشن کی کھلی چھٹی دینا منشیات فروشوں کے لیے نرم گوشہ رکھنا ماتحت عملہ کا منشیات فروشوں کی سہولت کاری کرنا سچی ایف ائی ار بھی رشوت لیے بغیر درج نا کرنا جیسے مسائل عام ھیں
اگر کھلی کہچریاں لگی ھوئی ھوتی تو اب تک درجنوں شکایات اوپر تک پہنچ جاتی

عثمان قتل کیس میں ابھی تک ایس ایچ او نے ٹائم پاس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا نا اگے ان سے امید ھے کہ وہ اس کیس پر کچھ مثبت پیش رفت کر سکتے ھیں جیسے جیسے قتل پرانا ھو جاتا ھے ویسے ویسے فائل پر گرد پڑ جاتی ھے
ڈی پی او خانیوال سے گزارش ھے کہ وہ روتی انکھوں کا خیال کریں یہ تلمبہ کی تاریخ کا بھیانک قتل ھے
شہری ابھی تک غم میں مبتلا ھیں اس کیس کے مدعی غریب شریف مسکین لوگ ھیں ان کے پاس صبر کے علاوہ کچھ نہیں
ڈی پی او خانیوال
اور ڈپٹی کمشنر خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی صاحب سے اپیل ھے کہ وہ مظلوموں کی داد رسی کریں
عثمان کے قاتل انسان ھی ھیں فرشتے نہیں جو ابھی تک ایس ایچ او تلمبہ ڈھونڈ نہیں پاے ایک ذمہ دار افسر یوں لمبی تان کے نہیں سوتے جیسے موصوف سوے ھوے ھیں

03008397902
03145805555
آصف خان نیازی
راجہ آصف کیانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں