174

23مارچ1987 کو مینارپاکستان کے زیرسایہ عظیم الشان کانفرنس انعقاد پزیر تھی

#علامہ_احسان_الٰہی_ظہیر_شھیدؒ – تحریر محمد اشفاق نیاز

یوم شھادت 30 مارچ 1987

۔ 23مارچ1987 کو مینارپاکستان کے زیرسایہ عظیم الشان کانفرنس انعقاد پزیر تھی کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر شھیدؒ دوران تقریر جب علامہ اقبال کے اس شعر پر پہنچے:
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتاہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑ۔
ابھی آخری مصرعہ مکمل نہ کرپائے تھے کہ 3 خوفناک بم دھماکے ہوئے جس سے پوری فضا لرزاٹھی اور اسٹیج پر جلوہ افروز علمائے کرام جن میں علامہ حبیب الرحمن یزدانی شھید ہوگئے جبکہ عظیم خطیب علم کی دنیا کا چمکتا ستارہ علامہ احسان الٰہی ظہیر شھید شدید زخمی ہوگئے جنہیں انتہائی زخمی حالت میں میوہستال لاہور منتقل کیاگیا وہاں سے سعودیہ کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیز نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے سعودی عرب بلالیا اور انتہائی نگہداشت میں ان کا خصوصی علاج کیا گیا سات دن تک آپ زخموں سے چور رہنے کیبعد 30مارچ 1987 کو شھادت کے رتبے پر فائز ھوگئے اور یوں خطابت کا درخشندہ ستارہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا

علامہ احسان الٰہی ظہیر شھیدؒ بلاشبہ ایک عظیم مقرر
بلند حوصلہ عالم باعمل انسان تھے
علامہ احسان الٰہی ظہیر شھیدؒ نا صرف پاکستان میں مقبول تھے بلکہ عرب کی دنیا میں بھی آپکو قابل قدر سمجھا جاتاتھا
آپ شھیدؒ کی شیخ عبدالعزیز بن باز نے ریاض میں نماز جنازہ پڑھائی پھر مسجدنبوی ﷺ میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی اور ہزاروں افسردہ چہروں کی موجودگی میں آپ کو جنت البقیع میں دفن کیاگیا اللہ رب العزت تمام شھدائے اسلام کے درجات بلند فرمائے
آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں