44

16 دسمبر 1971آپ نے شکست تسلیم کرلی ہے اور اخلاقی طور پر اب آپ ہماری کمانڈ کا حق کھو چکے ہیں۔ میری ماں مجھے غازی یا شہید دیکھنا چاہتی ہے :رپوٹ لبنی اشرف سیال

16 دسمبر 1971
میں تمہارا کمانڈر ہوں اور میرا حکم ہے کہ ہتھیار پھینک دو
لیفٹیننٹ کرنل محمد سلیمان نے جنرل نیازی کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور تاریخی جملہ کہا “آپ نے شکست تسلیم کرلی ہے اور اخلاقی طور پر اب آپ ہماری کمانڈ کا حق کھو چکے ہیں۔ میری ماں مجھے غازی یا شہید دیکھنا چاہتی ہے جنگی قیدی نہیں ۔ میں یہاں سے نکل رہا ہوں اور آپ جان لیں گے کہ اپنی جان دے دوں گا لیکن دشمن کا قیدی نہیں بنوں گا۔میں یہاں دشمن سے جنگ کرنے کے لئےآیا ہوں ہتھیار پھینک کر جنگی قیدی بننے نہیں۔ ”
17 دسمبر کی شام وہ ڈھاکہ سے اس طرح نکلے کہ انھوں نے اپنے زخمی دوست میجر پی ڈی خان کو کندھے پہ اٹھا رکھا تھا وہ دشمن سے بچتے بچاتے برما پہنچ گئے پھر وہاں سے پاکستان پہنچے۔لیفٹیننٹ کرنل محمد سلیمان کو ان کی بہادری اور عظمت کی وجہ سے Suleiman the Magnificent سلیمان عالی شان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بہادرو تمہیں سلام….

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں