57

احادیث مرتب کرنے والے راویوں کے متعلق چشم کشا معلومات : رپوٹ لبنی اشرف سیال

1- امام بخاری
یہ بخارا میں پیدا ہوۓ اور 256 ہجری (یا بعض کے نزدیک 260 ہجری) میں سمرقند کے قریب فوت ہوۓ- کہا جاتا ہے کہ انہوں نے شہر بہ شہر اور قریہ بہ قریہ پھر کر چھ لاکھ (600000) کے قریب احادیث جمع کیں- ان میں سے انہوں نے اپنے میعار کے مطابق صرف تقریباً سات ہزار تین سو (7300 ) احادیث کو صحیح پایا اور انہیں اپنی کتاب میں درج کر لیا- باقی تقریباً پانچ لاکھ ترانوے ہزار (593000) کو مسترد کر دیا- ان (7300) میں سے بہت سی احادیث مختلف ابواب میں مکرر نقل ہوئی ہیں- اگر ان مکررات کو شمار نہ کیا جاۓ تو باقی 2762 رہ جاتی ہیں یا 2630-
2-امام مسلم-
صحیح مسلم کے جامع امام مسلم بن حجاج تھے جو ایران کے مشہور شہر نیشا پور کے باشندے تھے- انکی ولادت 204 ہجری میں اور وفات 261 ہجری میں ہوئی-
آپ نے تقریباً (300000) تین لاکھ حدیثیں جمع کیں اور ان تین لاکھ میں سے صرف (4348) احادیث کو اپنے مجموعے میں شامل کیا-
3-امام ترمذی-
امام ابو محمّد ترمذی- یہ ایران کے شہر ترمذ کے رہنے والے تھے- سال ولادت 209 ہجری اور وفات 279 ہجری ہے-
آپ نے بھی تقریباً تین لاکھ (300000) حدیثیں جمع کیں اور صرف (3115) کو درست قرار دیا
4-امام ابو داؤد-
سیستان (ایران) کے رہنے والے تھے 202 ہجری میں پیدا ہوۓ اور 275 ہجری میں وفات پا گئے-
پانچ لاکھ (500000) میں سے صرف (4800) کو صحیح مانا اور اپنے مجموعے میں درج کیا-
5-امام ابن ماجہ-
ابو عبد الله محمّد بن زائد ابن ماجہ- یہ شمالی ایران کے شہر قزدین کے رہنے والے تھے- سن پیدائش 209 ہجری اور رحلت کا سن 273 ہجری ہے-
آپ نے چار لاکھ (400000) میں سے صرف (4000) حدیثیں اپنے مجموعے میں درج کیں-
6-امام عبدالرحمٰن نسائی-
یہ مشرقی ایران کے صوبہ خراسان کے ایک گاؤں نسا میں پیدا ہوۓ- انکا سن وفات 303 ہجری ہے-
آپ نے دو لاکھ (200000) حدیثوں میں سے صرف (4321) کا انتخاب کیا-
(١) یہ سب کے سب ایرانی تھے ان میں عرب کا رہنے والا کوئی نہیں تھا مقام حیرت ہے کہ عربوں میں سے کسی نے بھی اس عظیم کام کا بیڑا نا اٹھایا اور احادیث کی جمع و تدوین کا کام غیر عربوں (عجمیوں) کے ہاتھ سرانجام پایا-
(٢) یہ تمام حضرات تیسری صدی ھجری میں ہوۓ-
(٣) انہوں نے لاکھوں حدیثیں پائیں لیکن ان میں سے بہت تھوڑی ایسی تھیں جنھیں انہوں نے صحیح قرار دے کر اپنے مجموعوں میں درج کیا-
(٤) یہ تمام احادیث لوگوں نے انہیں زبانی سنائیں انکا کوئی تحریری ریکارڈ اس سے پہلے کا موجود نہیں تھا-
(٥) ان حضرت نے لاکھوں حدیثوں میں سے جن کا انتخاب کیا وہ انتخاب ان کی ذاتی بصیرت اور فیصلہ کا نتیجہ تھا ان احادیث کے صحیح ہونے کے متعلق نہ تو ان کے پاس خدا کی سند تھی ( یعنی خدا نے انہیں بذریعہ وحی نہیں بتایا تھا کہ فلاں حدیث صحیح ہے اسے رکھ اور فلاں غلط ہے اسے مسترد کر دو) نہ ہی اسکی کوئی سند رسول الله نے عطا فرمائی تھی ( کہ تم نے جن احادیث کا انتخاب کیا ہے وہ فی الحقیقت میرے اقوال ہیں) نہ ہی ان کے پاس پہلے کا کوئی تحریری ریکارڈ تھا جس سے انہوں نے ان احادیث کا انتخاب کیا ہو- یہ لوگوں کی زبانی باتیں تھیں جنہیں انہوں نے اپنی فراست کے مطابق صحیح تصور کر کے اپنے مجموعوں میں داخل کر لیا تھا-
اب آپ سوچئے کہ کیا اس قسم کی انفرادی کوششوں کے نتیجے کے متعلق کسی طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ یقینی طور پر رسول الله کے ارشادات ہیں؟
پھر اسے بھی ذہن میں رکھیے کہ اس دو اڑھائی سو سال کے عرصہ میں جو باتیں لوگوں کی زبانی آگے منتقل ہوتی چلی آ رہی تھیں ان میں سے کسی ایک کے متعلق بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ رسول الله کے الفاظ تھے جو اسی طرح باپ سے بیٹے یا استاد سے شاگرد نے سن کے حفظ کر لیے تھے-
ان باتوں کو ہر راوی اپنے الفاظ میں بیان کرتا تھا-
ظاہر ہے کہ جب ردو قبول کا مدار جامع احادیث کی ذاتی بصیرت ہو تو کون کہہ سکتا ہے کہ ان لاکھوں کے انبار میں جنہیں ان حضرات نے مسترد قرار دے دیا تھا کتنی صحیح حدیثیں بھی ضیا ہو گئی ہوں گی- باقی رہا یہ کہ جن احادیث کا ان حضرات نے انتخاب کیا ان میں کتنی حدیثیں آ گئی ہیں جنہیں کسی صورت میں بھی حضور نبی اکرم کے اقوال یا افعال نہیں قرار دیا جا سکتا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں