97

امت مسلمہ کی پکار……کون بنے گا محمد بن قاسم.رپورٹ :طلحہ راجپوت

آج کل معاشرہ اس موڑ پر آن پہنچا ہے کہ مسلمان, مسلمان کا بننے کی تو دور کی بات ہے اس معاشرے میں بھائی بھائی کا کوئی نہیں بن رہا, اسلامی ریاستیں خاموشی اختیار کی ہوئی ہیں ادھر کشمیری ہمارے بھوکے , پیاسے اور بیمار جن کو ادویات نہیں مل رہیں وہ بیچارے کئ دنوں سے گھروں میں محسور ہو کر مر رہے ہیں. اور وہاں پر کوئی مسلم ممالک ان کی مدد کرنے کو تیار نہیں,

مسلم ممالک ریلیوں, مذمتیں, کراردادیں منظور کروا کر, اخباروں میں خبریں لگوا کر اور نیوز چینلوں پر بیٹھ کر بڑھکیں مار کر نہ تو اسطرح کشمیر فتح ہو سکتا ہے اور نہ ہی کشمیر میں ظلم کا خاتمہ ہو سکتا ہے. مسلم ممالک کے سربراہان والوں اس وقت ہمیں کشمیریوں کے دفاع کیلئے جہاد کا اعلان کرنا ہو گا. اے مسلم ممالک کے سربراہان کچھ تو خدا کا خوف کرو, کچھ تو ہمارے پیارے پیغمبروں (ص) کے نقشہ قدموں پر چل پڑو, ہمارے پیارے پیغمبروں نے بھی اپنی امت کو بچانے کیلئے جہاد کیا تھا, انہوں نے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کی تھی, اگر ہمارے پیارے پیغمبروں نے اپنی امت کیلئے جانیں قربان کر دیں تھیں, تو آج ہم کیوں نہیں مسلمانوں کے دفاع میں جہاد کر رہے. کیا ہماری غیرت مر گئ ہے, مسلم ممالک کے سربراہان کیا وجہ ہے کہ کشمیر, فلسطین, اور دیگر اسلامی ممالک میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے اور آپ خاموش ہیں. کیوں نہیں نکلتے مسلمانوں کے دفاع کے خاطر . کیوں نہیں بچا رہے اسلامی ریاست کو,
کیا تمہیں مسلمانوں کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں.
کچھ تو غیرت کر لو امت مسلمہ کے سربراہوں ,ہمارے مسلم بھائی آپکو پکار رہے ہیں آپ سے مدد مانگ رہے ہیں. لیکن ہم پراوہ بھی نہیں کر رہے.
مسلم ممالک کے سربراہوں کوئی تو بن جاؤ محمد بن قاسم, کوئی تو چل پڑو محمد بن قاسم کے نقشہ قدم پر, ہمیں کیوں نہیں خوف آتا مسلمانوں پر ظلم ہونے کا , ہم کیوں نہیں نکلتے جہاد کیلئے, کب تک خاموش رہو گئے جب مسلمانوں کا خاتمہ ہو جائے گا, کب مسلم ممالک ایک ہو گئے جب امت مسلمہ کا خاتمہ ہو جائے گا, مسلم ممالک کے سربراہان ہم مسلمان ہو کر مسلمان کی مدد نہیں کر سکتے تو ہمارا مسلمان ہونے کیا حق رہتا ہے. کیا جواب دو گئے اپنے رب کو اور اپنے پیارے پیغمبروں کو کہ ہم نے امت مسلمہ کیلئے کیا کیا تھا. مسلم ممالک کے سربراہان والوں کر لو راضی اپنے اللہ کو کر لو راضی اپنے پیارے پیغمبروں کو یہی موقع ہے راضی کرنے کا, مسلم ممالک کے سربراہان ہمارے پیارے پیغمبروں نے اپنی امت مسلمہ کی خاطر اپنے معصوم بچے بھی قربان کر دیئے تھے.

میں مسلم ممالک کے سربراہان کو صرف اتنا کہوں گا کے خدا کیلئے ایک ہو جاؤ, بچا لو امت مسلمہ کو, بچا لو اپنی اپنی اسلامی ریاست کو نکلو باہر جہاد کرو, مر جاؤ پر اپنی امت اور اپنی اسلامی ریاست پر آنچ نہ آنے دو, صرف دشمنوں کو یہی کہہ ڈالو کہ ہم مر تو سکتے ہیں پر یہ ظلم برداش نہیں کر سکتے, کتنے ہمارے مسلم ممالک ہیں اگر سب بھی اکٹھے ہو جائیں تو ہم یہودیوں کی اینٹ پے اینٹ بجا سکتے ہیں اور ان سے لڑنے کی طاقت ہم انکے اٹیمی بمبںوں سے بھی زیادہ رکھ سکتے ہیں. اب بن جاؤ محمد بن قاسم اور دیکھا دو یہودیوں کو کہہ مسلم ممالک ایک ہیں.
امت مسلمہ کے سربراہوں دیر نہ کرو نکل پڑو امت مسلمہ کو بچانے کیلئے. اگر ہم امت مسلمہ کیلئے لڑ نہیں سکتے تو ہم کس نام کے مسلمان ہیں, پھر تو ہمیں مسلمان کہلانے کا حق بھی نہیں ہے.

اللہ پاک ہم سب کو امت مسلمہ کیلئے جہاد کرنے کی توفیق دے اور اللہ پاک امت مسلمہ پر ہونے والے ظلم پر انکو نجات دلائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں