252

معاشرہ عدم برداشت کی اخری حدوں کو چھو چکا محض شک کی بنیاد پر پورے گاوں نے ایک مظلوم شخص پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے دل دہلا دینے والا واقعہ تفصیل طلحہ راجپوت کی اس رپوٹ میں

ایک واردات کے شک میں ظلم کے پہاڑ ڈہا دیئے۔۔۔

ضلع #مانسہرہ کے علاقے یونین کونسل بٹل کے ایک گاؤں جگوڑی میں ایک آدمی کو علاقہ مکینوں نے گاڑی کی بیٹری کی چوری کے شک میں پکڑ کر اس پر ظلم کی انتہا کر دی ویڈیو میں جو دو آدمی پکڑے گئے وہ گاؤں جگوڑی کے ملحقہ گاؤں بدروچھہ کے ہیں
ویڈیو میں دیکھیں تو ان لوگوں نے ان دو آدمیوں پر قیامت ڈھا دی
مار پیٹ اس طرح کی جیسے کوئی گدھوں اور گوڑھوں کو بھی نہیں مارتا ان کا کہنا ہے کہ علاقے کے لوگوں میں سے دو آدمی ایک مقبول اور دوسرا ظہور گاڑی کی بیٹری چوری کر رہے تھے کہ راہگزر دو نوجوانوں نے انہیں دیکھ لیا اور مقبول اور ظہور نے اپنی چوری چھپانے کے لئے ان کو دھر لیا اور گاؤں کے لوگوں کو فون اور آوازیں دے کر بلایا اور ان کو مار مار کر اس بات پر اقرار کروایا کہ یہ لوگ چور ہیں اور ان کے کپڑے اتروا دیئے اور ان کو مار مار کر لہو لہان کر دیا ان کی حالت غیر کر دی اور ان پر بیڑ بکریوں کی چوری کا الزام ڈال دیا اور ان کو ڈرا دھمکا کر تھانے دار اور SHO کا بھی حوالہ دینے لگے
ویڈیو میں لوگوں کو ایک طرف کرکے ایک بزرگ شیطان یہ کہتا ہے کہ ادھر سے ویڈیو اچھی بنے گی ۔۔۔
اف اللہ انسانیت اتنی مر گئی ۔۔۔۔۔کہاں ہے ان کا اسلام ، کہاں ہے ایمان ، کدھر ہے اللہ کا خوف ، کدھر ہیں وہ حاجی و نمازی ، کہاں ہیں اسلام کے وہ دعویدار ۔۔۔
گاؤں کے وڈھیروں نے ایسے کام شروع کر دیئے جو شیطان بھی نہ کر سکا ۔
یہ علاقے کے لوگ جہالت کے پیروکار ، شیطانیوں کے دلدار اور ظلم کے پہاڑ بن کر ان دو جوانوں کو بہت ذلیل کیا ۔
کیا موت نہیں آئے گی ؟
کیا قیامت نہیں آئے گی؟
کیا انسان کے حق اور اس پر ظلم کا نہیں پوچھا جائے گا ؟؟؟
انسانیت خاموش ہے اور ان سوالوں کے جواب نہیں۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر و حسبي الله و نعم الوكيل
متعلقہ SHO اورDPO مانسہرہ صادق بلوچ صاضب سے درخواست ہے کہ فلفور کاروائی کر کے انصاف کے تقاظے پورے کئے جائیں اور قانون کو ہاتھ میں لینے اور اپنی عدالت لگانے والوں کا محاسبہ کیا جاۓ تاکہ قانون شکنی کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں