363

دل دہلا دینے والا واقعہ دوستی نا کرنے پر پروفیسر نے اپنی ھی طالبہ کو اپنے مضمون میں کئی بار فیل کر دیا کیا لڑکی نے مجبور ھو کر کیا کیا جانئیے اس لنک میں

‏پشاور یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ ایک پروفیسر صاحب کی غیر اخلاقی ڈیمانڈ نہ ماننے پر اسے ایک ہی مضمون میں بار بار فیل کیا جا رہا ہے۔اس نے باقی سب مضامین میں اے ون گریڈ حاصل کیا۔لیکن اس مضمون کے پروفیسر صاحب اسے اپنے مضمون میں بار بار فیل ‏کر رہے ہیں۔ جن سے ان کا قیمتی وقت ضائع ھورہا ھے وہ ان پروفیسر صاحب کی غیر اخلاقی ڈیمانڈ نہیں مان سکتی۔اس کے اس مضمون کے پیپر نکلوا کر چیک کئے جائیں۔ اور ان کے تمام کلاس فیلو کے پیپرز کو بھی چیک کیا جائے ۔ پیپر بار بار فیل کرنے کا مقصد یہ ھے کہ یہ مجھے بتانا چاھتا ھے کہ میرے غیر اخلاقی ڈیمانڈ مانو ورنہ تمہارا پیپر فیل ھوگا۔ مجھے بار بار کلاس میں بلاوجہ بے عزت کرتا ھے۔ کیا میرے والدین نے مجھے پروفیسر صاحب کی غیر اخلاقی ڈیمانڈ پورا کرنے کیلئے بیجھا ھے؟ کیا ان گھر میں بیٹیاں اور بہنیں نہیں جن سے میرے بھائی غیر اخلاقی ڈیمانڈ کریں؟ کیا روحانی باپ ایسی ھوتی ہیں؟ یونیورسٹی اس پروفیسر کیخلاف کارروائی کرے یا عدالت اسے بتا دے کہ اگر پاس ہونے کا یہی طریقہ ہے تو وہ پڑھائی چھوڑ دے۔ مجھے نہ ایسے تعلیم کی ضرورت ھے اور نہ ایسے استاد کی اور نہ کبھی وہ اپنے عزت پر سمجھوتہ کریں گئی .اس کیس کی سماعت پشاور ہائی کورٹ کے دو ججزز پر مشتمل بینچ کررہا ھے ۔ جو کہ جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل ہیں. دوران سماعت جسٹس اکرام اللہ خان نے ریمارکس دیئے کہ انہیں سب پتہ ہے کہ امتحانی ھال اور انٹرویوز میں کیا ہوتا ہے۔وہ معاملے کو دیکھ لیں گے۔ عدالت نے یونیورسٹی انتظامیہ کو متاثرہ طالبہ اور باقی تمام طلبہ کا پیپر پیش کرنے کا حکم دیا اور سماعت 11 اگست تک ملتوی کر دی۔
‏پچھلے 2 ماہ میں ھزاہ یونیورسٹی مانسہرہ سے 3 طلبہ قانونی رہنمائی کیلئے مجھ سے رابطہ کرچکے ہیں۔ان میں سے ایک یونیورسٹی طالبعلم کو اپنی خاتون استاد جبکہ 2 طالبات کو اپنے پروفیسرز سے تقریبا اسی طرح کی شکایات ہیں۔مجھے نہیں پتہ ان الزامات میں کتنی سچائی ہے اور کتنا جھوٹ،یہ فیصلہ متعلقہ ‏فورمز کریں گے۔ایک طالبہ نے ایف آئی اے میں درخواست دائر کر دی ہے۔ایف آئی اے افسران ابھی تک تو تعاون کر رہے ہیں۔امید ہے کہ داد رسی ہوگی۔
چند دن پہلے پنجاب یونیورسٹی، ایبٹ آباد یونیورسٹی، ملتان، فیصل آباد اور اسلام آباد ، کراچی اور کوئٹہ کے یونیورسٹیوں کے پروفیسرز سے متعلق اسی طرح کی خبریں سامنے آئیں تھی جبکہ اس سے پہلے کراچی سے بھی اسی طرح کا ایک ایشو سامنے آیا ‏تھا۔‏آج پشاور یونیورسٹی کی ایک طالبہ ہمت کر کے عدالت آگئی ہے۔

طلباء اور طالبات کو اپنے ہی یونیورسٹی اساتذہ کی جانب سے ہراساں کرنے کی کوئی خبر ملتی ھے تو دل دکھی ہوتا ہے۔ کیونکہ اساتذہ روحانی والدین ھوتے ہیں اور قوم اور معاشرے معمار ھوتے ہیں ۔استاد کو جس معاشرے میں عزت دی گئی ہے وہ معاشرے کبھی پستی کی طرف نہیں گیا۔ مگر یونیورسٹیوں میں بہت سے خاتون اساتذہ طلباء اور مرد اساتذہ طالبات کو ہراساں کرکے یرغمال بنا لیتے ہیں ۔ ان کے پیپرز اور تیسیز کو بار بار فیل کرتے ہیں اور ان سے اپنی من پسند اور غلط کام کرواتے ہیں اور ذہنی طور پر ٹاچر کرتے ہیں۔ یا تو وہ پیپرز پاس کرنے کیلئے غلط کام کرنے پر مجبور ھوتے ہیں یا اپنی بدنامی کی وجہ تعلیم چھوڑ جاتی ہیں مگر اب ایسا نہیں ھوگا ہم ایسے اساتذہ اور پروفیسروں کو نہ صرف بےنقاب کرینگے بلکہ انہیں قرار واقعی سزا بھی ملی گئی ۔

اساتذہ اور پروفیسرز ہمارے لئے قابل احترام ہیں ۔انہیں کی وجہ سے آج ہمیں سچ کو سچ کہنے اور غلط کو غلط کہنے کا شعور آیا۔مجموعی طور پر ہمارے اساتذہ ‏قابل تقلید ہیں،لیکن اس طرح کے واقعات اس مقدس پیشے کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ہمارے معزز اساتذہ اور پروفیسرز کو اپنے اندر موجود اس طرح کے گندے لوگوں کی نشاندہی کرنا ہوگی۔ کیونکہ یہ نہ صرف اعلی تعلیم کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ اعلی تعلیمی اداروں کوبھی یونیورسٹیوں کو بھی اپنا چیک اینڈ بیلنس کا نظام مضبوط بنانا ہوگا۔امید ہے پشاور ہائیکورٹ میرٹ پر کیس کا ‏فیصلہ کرے گی۔اگر پشاور یونیورسٹی کی طالبہ کا موقف ٹھیک ہے تو ان پروفیسر صاحب کو فوری یونیورسٹی سے نکال کر باہر کیا جائے اور سزا دی جائے ۔تاکہ حق ،انصاف،میرٹ اور اپنے عزت پر سمجھوتہ نہ کرنے والے اس طرح کی طلباء اور طلبات کی حوصلہ افزائی ھوجائے اور وہ بلاخوف اپنے تعلیم حاصل کرسکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں