161

نویں اور دسویں کے امتحانات 7 مارچ جبکہ فرسٹ اور سیکنڈ ایئر کے امتحانات 15 اپربل سے ہونگے

نویں اور دسویں کے امتحانات 25 مارچ جبکہ فرسٹ اور سیکنڈ ایئر کے امتحانات 15 اپربل سے ہونگے رپوٹ انیس لودھی

وفاق سے سندھ کو پیسے نہ ملنے کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے: سردار شاہ

کراچی(5 مارچ): وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسکولز و کالجز کے سیکریٹریز، آر ایس یو چیف، بورڈز کے نمائندوں، پرائیویٹ اسکولز کے نمائندوں, ضلعی تعلیمی افسران و دیگر متعلقہ عملداروں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوراں صوبے میں بورڈز کے امتحانی سینٹرز کی کنسالیڈیشن اور امتحانات کا کھلے میدانوں میں انعقاد، کریکیولم ونگ کی طرف سے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے سالانہ امتحانات اور اس کے علاوہ دیگر جماعتوں کے امتحانات سمیت مختلف نکات پر تفصیلی بحث مباحثہ کیا گیا۔

اجلاس کی شروعات گذشتہ اسٹیئرنگ اجلاس کے منٹس کی توثیق کی گئی۔

اجلاس میں تعلیمی بورڈز کے امتحانات کھلے میدانوں میں منعقد کروانے والے ایجنڈا پر تفصیلی بات ہوئی اور اس پر سیکریٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اسیمبلی فلور پر اپنی تقریر میں واضع کیا کہ وفاق کی طرف سے سندھ صوبے کو فنڈز رلیز نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے بہت سارے مسائل کا سامنا ہے, اور تاحال سندھ کو وفاق کی جانب سے پیسے نہیں ملے. جس کے باعث سندھ کے تمام محکموں کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں بھی محکمہ خزانہ نے فنڈز جاری نہیں کیے۔

اس موقع پر بورڈز کے چیئرمینوں نے یکرائے ہوکر بتایا کہ ہم نے اپنے طور پر کوشش کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ امتحانی سینٹرز کی کنسالیڈیشن کی جائے لیکن امتحانات میں وقت بہت کم ہے، اور ہمیں مالی مسائل کا سامنا ہے اور اس کے علاوہ مطلوبہ فرنیچرز, اور دیگر چیزوں کی ٹینڈرنگ پروسیس کے لیے بہت وقت درکار ہے۔

اس پر وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے بورڈز چیئرمین کو کہا کہ ایڈیشنل فنڈز نہ سہی آپ کے پاس جتنے بھی موجودہ فنڈز ہیں ان سے جنتا ممکن ہوسکے امتحانات شفاف کروائیں اور کاپی کے عمل کو مکمل طور پر روکنے کی کوشش کریں۔

سردار شاہ نے کہا کہ میں امتحانی بورڈز کو ایپریشیئیٹ کرونگا اگر وہ زیادہ سے زیادہ امتحان کھلے میدانوں میں کروائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ امتحانات کے انعقاد کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے بھی تعاون لیا جائیگا۔ اور کھلے میدانوں میں امتحانات منعقد کرانے کا ہمارا بنیادی مقصد امتحان میں نقل کے عمل کو روکنا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کاپی کے معاملے میں بلکل زیرو ٹالیرنس ہوگا اور اگر کسی کو بھی کاپی کرواتے پکڑا گیا تو اس کو سخت سزا دی جائیگی۔ سردار شاہ نے تنبیہہ کرتے ہوئے محکمے کے ملازمین کو خبردار کیا کہ محکمہ تعلیم کا کوئی بھی ملازم اگر کاپی میں ملوث پایا گیا تو وہ محکمے میں نہیں رہے گا۔

اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور فیصلہ کیا گیا کہ میٹرک اور انٹر کے امتحانات کیلئے ایگزام سینٹرز کی جتنی کنسالیڈیڈیشن ہوچکی ہے اسکو برقرار رکھا جائے گا۔ اور امتحانی بورڈز جنتا ممکن ہوسکے گا اتنا امتحانات کھلے میدانوں میں منعقد کروائینگے۔
جبکہ آئندہ سال کی بجیٹ میں امتحانات کھلے میدانوں میں منعقد کروانے کے لیے رقم مختص کرانے کیلئے بورڈز محکمہ خزانہ کو پہلے سے ہی مراسلہ بھیجیں گے۔

کمیٹی میں امتحانات کے انعقاد کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ نویں اور دسویں کے امتحانات 25 مارچ سے کروائے جائینگے۔ جبکہ گیارویں اور بارویں جماعت کے امتحانات 15 اپریل سے کروائے جائینگے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ وفاق سے فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے تمام محکموں کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے, انہوں نے کہا کہ میرے کلچر ڈپارٹمنٹ کے بھی بہت سے ایونٹس فنڈز رلیز نہ ہونے کی وجہ سے کینسل ہوئے ہیں۔ اسی طرح سے اسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلے کے تحت بورڈز کے امتحانات کھلے میدانوں میں منعقد کرانے کے لیے محکمہ خزانہ سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ وفاق نے سندھ کو پیسے ہی نہیں دیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کھلے میدانوں میں امتحانات کے انعقاد کے لیے بائیس کروڑ کے اخراجات آئیں گے. اور رواں مالی سال میں بورڈز کا اتنا بجٹ مختص نہیں تھا.

انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی بورڈز کا کام امتحانات کا انعقاد ہے, اس لیے امتحانات میں اخراجات سے متعلق بورڈز پہلے ہی فائنانس ڈپارٹمنٹ کو آگاہ کریں گے۔ اور آئندہ سال 2020 میں امتحانات لازمی کھلے میدانوں میں ہوں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں سولہ سے اٹھارہ گھنٹے بجلی نہیں ہوتی, اور اگر صبح امتحانی وقت کے دوراں بجلی نہ ہو تو ہر شاگرد بند اور گٹھن زدہ کمروں کے بجائے کھلے میدانوں میں بیٹھنے کو ترجیح دینگے۔

امتحانات میں پیپر آؤٹ ہونے اور کاپی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ پیپر آؤٹ کروانے والے افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جائے گا, جبکہ بورڈز کی سطح پر امتحانی نتائج کی تبدیلی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کریں گے کیونکہ بورڈز وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت ہیں۔

میڈیا کی طرف سے پوچھے گئے ایک اور سوال کہ جواب میں انہوں نے بتایا کہ میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی ہولی کی وجہ سے کی گئی ہے تاکہ ہندو طلبا و طالبات اپنا مذہبی تہوار خوشی کے ساتھ مناسکیں۔
ہینڈآؤٹ (سعید میمن)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں